بلوچستان اسمبلی عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام، حکومت اور فرینڈلی اپوزیشن محض مراعات سمیٹنے میں مگن ہیں: مولانا ہدایت الرحمٰن
سرداری و نوابی نظام اسٹیبلشمنٹ کے سہارے مسلط ہے، عوام پر مظالم کے خلاف سیل قائم کریں گے، قرارداد کو دبا کر جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا: پریس کانفرنس

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر و رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا ہے کہ وہ بلوچستان اسمبلی کی اڑھائی سالہ کارکردگی عوام کے سامنے رکھنے آئے ہیں، انہوں نے اسمبلی میں عوامی مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور عوام کی مشکلات کے باوجود اپوزیشن کو اس عرصے میں کچھ نظر نہیں آیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ اپوزیشن فرینڈلی نہیں بلکہ اس کا کردار کچھ اور ہے، اپوزیشن ارکان بھی وزراء کی طرح مراعات اور فوائد حاصل کرتے ہیں۔کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمٰن نے سرداری اور نوابی نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ قبائلی نظام کے نہیں بلکہ سنڈیمن کے دور میں مسلط کیے گئے سرداری نظام کے خلاف ہیں۔ ان کے بقول انگریز دور میں بعض سرداروں اور نوابوں کو مخصوص معاہدوں کے تحت مراعات اور تنخواہیں دی جاتی تھیں اور وہ انگریز حکام کی بگھیاں کھینچنے کے عوض معاوضہ لیتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرداری و نوابی نظام اسٹیبلشمنٹ کے سہارے قائم ہے، تاہم یہ نظام اب اپنی گرفت کھو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں ایسے نظاموں کا خاتمہ کیا جا چکا ہے اور بلوچستان میں بھی پہلے سے موجود قوانین پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ اگر سردار اور نواب کے القاب کے لیے کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تو ان کا خاتمہ ہونا چاہیے اور متعلقہ افراد کو سرکاری مراعات بھی نہیں ملنی چاہئیں۔ ان کے مطابق بلوچستان اسمبلی کو سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق قرارداد مسترد کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ سرداری نظام کے خلاف قرارداد پر اسمبلی میں بحث کے دوران مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت مختلف جماعتوں کے ارکان کے رویے پر انہیں تحفظات ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ قرارداد کے معاملے پر جمعیت علمائے اسلام کے ارکان کو زیادہ تکلیف محسوس ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر انہیں بات کرنے کی اجازت دے رہے تھے، لیکن اپوزیشن لیڈر کی جانب سے رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر منتخب نمائندے کو اسمبلی میں بات کرنے کا موقع نہ دیا جائے تو یہ کون سی جمہوریت ہے؟ انہوں نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے واک آؤٹ کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ دیگر معاملات، بشمول مائنز اینڈ منرلز ایکٹ اور دہشت گردی کے خلاف قراردادوں پر، وہی ردعمل سامنے نہیں آیا جو سرداری نظام کی قرارداد پر دیکھنے میں آیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ خضدار، نوشکی اور تربت میں جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں کے خلاف پیش آنے والے واقعات پر اپوزیشن نے اس طرح ردعمل نہیں دیا، جس طرح سرداری نظام کی قرارداد پر سامنے آیا۔ مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے اسمبلی میں سرداری نظام کے خلاف دوبارہ قرارداد جمع کرا دی ہے اور وہ اس معاملے پر کسی دباؤ یا خوف کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔جماعت اسلامی کے صوبائی امیر نے کہا کہ بلوچستان میں اگر کوئی سردار یا نواب کسی غریب کے ساتھ ظلم کرے گا تو وہ مظلوم کا ساتھ دیں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک سیل قائم کیا جائے گا جہاں متاثرہ افراد کی ہر سطح پر داد رسی کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔مولانا ہدایت الرحمٰن نے نواب ثناء اللہ خان کے حوالے سے ایک سکول کی تعمیر پر تین کروڑ روپے جرمانے کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ ماضی میں نواب یوسف مگسی سمیت دیگر شخصیات نے بھی سرداری نظام کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی سے خوف زدہ نہیں ہوں گے اور عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔انہوں نے جمعیت علمائے اسلام سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ارکان اسمبلی کے کردار پر غور کرے اور ان کی سیاسی و جمہوری تربیت کی ضرورت کو مدنظر رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرداری نظام سے پہلے قبائلی نظام موجود تھا، جبکہ ان کے بقول سنڈیمن کے دور کے بعد سرداروں کو حکمرانی کا اختیار حاصل ہوا اور بعد ازاں نواب یوسف مگسی نے اس نظام کے خلاف مزاحمت کی۔مولانا ہدایت الرحمٰن نے مزید کہا کہ وہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے اور کسی بھی بااثر شخص کی جانب سے غریبوں پر ظلم کی صورت میں متاثرین کی مدد کے لیے دستیاب وسائل کے مطابق اقدامات کریں گے۔
