پی ٹی آئی کو بند گلی سے نکالنے کا ایک ہی حل ہے کہ خاندان اور مراد سعید کو فیصلہ سازی سے دور کیا جائے، شیر افضل مروت
ایسا کرنے سے پی ٹی آئی خود بخود کھڑی ہوجائے گی، میں بار بار کہتا رہا کہ پی ٹی آئی بند گلی کی طرف جارہی ہے، اب میرا اور ان کا تعلق ختم ہوچکا ہے، یہ اپنے مسائل کا حل خود نکالیں۔ رکن قومی اسمبلی کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)رکن قومی اسمبلی شیر افضل خان مروت کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو بند گلی سے نکالنے کا ایک ہی حل ہے کہ خاندان اور مراد سعید کو فیصلہ سازی سے دور کیا جائے، ایسا کرنے سے پی ٹی آئی خود بخود کھڑی ہوجائے گی، میں بار بار کہتا رہا کہ پی ٹی آئی بند گلی کی طرف جارہی ہے، اب میرا اور ان کا تعلق ختم ہوچکا ہے، یہ اپنے مسائل کا حل خود نکالیں۔
انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاندانہ گلزار کے خلاف مجھے کسی کی بات بھی اچھی نہیں لگتی، کیونکہ شاندانہ میری بہن کی طرح ہے،شاندانہ کے بھی اپنے تحفظات ہیں، علی امین سے بھی یہی توقع کرتا ہوں کہ وہ شاندانہ کو ناراض نہ کریں۔
علی امین گنڈا پور کی آڈیو لیکس سے ان کو کیا فائدہ ہورہا ہے؟ شہرت ایک وقت سے زیادہ کسی بھی شخص کو درکار نہیں ہوتی۔
مجھے کچھ خبیث چہروں کا پتا ہے جو یہ گھٹیا کام کررہے ہیں۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی میں جرأت کا فقدان ہے، سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ لوگ حق اور سچ کی بات کرنے سے اس لئے گریز کرتے ہیں کہ ان کو خوف ہے کہ کوئی ناراض نہ ہو جائے۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ اگر پارٹی ہی نہیں رہے گی تو پھر کسی کی ناراضی کی کیا پروا کرنی؟
میں کہتا رہا کہ پارٹی بند گلی کی طرف جا رہی ہے، لیکن اب یہ میرا کام نہیں، میرا اور ان کا تعلق ختم ہو چکا ہے۔ اس بند گلی سے واپسی کا ایک ہی حل ہے کہ خاندان اور مراد سعید کو فیصلہ سازی سے دور کیا جائے، رہنما پی ٹی آئی شیر افضل مروت https://t.co/BGcKBZvDH1
— WE News (@WENewsPk) October 27, 2026
شیر افضل مروت نے کہا کہ میں پہلے ہی کہتا رہا کہ پی ٹی آئی بند گلی کی طرف جارہی ہے، لہذا میرا کام نہیں ہے، میرا اور ان کا تعلق ختم ہوچکا ہے، جہاں پر عزت اور احترام نہ ہو، اب اپنے مسائل کا حل خود نکالیں۔
بند گلی سے نکلنے کا مسئلہ ایک وزیراعلیٰ بدلنا نہیں ہوتا۔ پی ٹی آئی کو بند گلی سے نکالنے کا ایک حل ہے وہ یہ ہے کہ خاندان اور مراد سعید کو فیصلہ سازی سے دور کریں تو پی ٹی آئی خود بخود کھڑی ہوجائے گی۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ اسلام آباد میں جگہ جگہ ناکوں سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت اسکینرز کا استعمال کیوں نہیں کرتی تاکہ فاصلے سے معلوم ہو سکے کہ کسی گاڑی میں بارودی مواد یا منشیات تو موجود نہیں؟ ایسا نظام ٹول پلازوں پر بھی نصب کیا جا سکتا ہے۔
