دلیل اور موثر موقف کا جواب بلیک آوٹ سے دینا جمہوری اقدار اور آزادیِ اظہار کے منافی ہے، سینیٹر مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے قومی اسمبلی میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی تقریر کے دوران مبینہ طور پر آواز بند کرنے اور براہِ راست نشریات روکنے پر سخت برہمی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دلیل اور مثر سیاسی مقف کا جواب بلیک آٹ کے ذریعے دینا جمہوری اقدار اور آزادی اظہار کے منافی ہے۔
اپنے بیان میں سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کا نام لیے جانے کے فورا بعد آواز بند ہونے اور قومی اسمبلی کی لائیو کوریج رکنے کے معاملے پر سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائد جمعیت کی دلیل کی قوت اتنی روشن ہے کہ طاقت ان کا سامنا کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی رہنما کی تقریر کی نشریات روکنے سے اس کا مقف عوام تک پہنچنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ پارلیمان عوامی نمائندگی کا سب سے بڑا فورم ہے، جہاں منتخب نمائندوں کو اپنی بات کہنے اور عوام تک اپنا مقف پہنچانے کا مکمل موقع ملنا چاہیے۔
مولانا عبدالواسع نے مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی میں قائد جمعیت کی تقریر کی نشریات مبینہ طور پر روکنے کے معاملے پر قوم کو وضاحت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کا احترام اور آزادی اظہار کا تحفظ ناگزیر ہے، جبکہ سیاسی مقف کا جواب بلیک آٹ کے ذریعے دینا جمہوری روایات کے منافی ہے۔
