قلعہ عبداللہ میں بیرونی مسلح جتھوں کو لا کر بسایا جا رہا ہے، امن و امان تباہ اور منشیات کا ناسور پھیل چکا ہے، مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کریں گے: صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) قلعہ عبداللہ بار ایسوسی ایشن کے صدر حمید اللہ کاکڑ ایڈوکیٹ نے دیگر وکلا رہنماؤں کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضلع قلعہ عبداللہ میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، دہشت گردی اور منشیات کے ناسور پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حمید اللہ کاکڑ ایڈوکیٹ نے کہا کہ قلعہ عبداللہ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے صوبے کا ایک اہم ضلع ہے، تاہم دہشت گردی اور بدامنی کے پے در پے واقعات نے عوامی زندگی کو شدید مفلوج کر رکھا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ضلع میں باہر سے مسلح افراد کو لا کر مختلف علاقوں میں باقاعدہ آباد کیا جا رہا ہے، جس کے باعث آئے روز فائرنگ، قتل و غارت گری اور اغواء برائے تاوان کی وارداتیں رونما ہو رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چند روز قبل مسلح افراد نے ایک گاؤں پر حملہ کر کے بے گناہ شہریوں کو شہید کر دیا، جس کے بعد شہداء کے لواحقین اپنے انصاف کے لیے گزشتہ چھ روز سے پیاروں کی لاشیں سڑک پر رکھ کر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ وکلا رہنماؤں نے اربابِ اختیار سے پرزور مطالبہ کیا کہ قلعہ عبداللہ میں بدامنی کا فوری خاتمہ کیا جائے، لائے گئے غیر مقامی مسلح افراد کو علاقے سے فی الفور بے دخل کیا جائے اور منشیات کی کاشت و کاروباری ناسور کا بلا تفریق سدباب کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے تمام مطالبات مکمل طور پر آئینی و قانونی ہیں اور وہ اپنے بچوں کے ہاتھوں میں ہتھیاروں کے بجائے قلم اور کتابیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو دھرنے اور احتجاج کا دائرہ کار پورے صوبے تک وسیع کر دیا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert