پی پی رہنماء نے شیریں مزاری کی گرفتاری سیاسی انتقام قرار دے دی

اسلام اباد(قدرت روزنامہ) پاکستان پیپلز پارٹی نے شیریں مزاری کی گرفتاری سیاسی انتقام قرار دے دی . تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں انہوں پیپلزپارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ شیریں مزاری کی گرفتاری سیاسی انتقام نہیں تو اور کیا ہے ، یہ ایک قابل مذمت اقدام ہے جس سے ملک کو نقصان پہنچے گا ، اس میں اگر حکومت ملوث ہے تو واقعے کی ذمہ داری قبول کرے .


علاوہ ازیں اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ پاک سرزمین میں حالات کبھی بدلتے نظر نہیں آتے ، شیریں مزاری میری پڑوسی اور عزیز دوست ہیں ، ان کی گرفتاری افسوسناک اور سیاسی جبر کی بدترین شکل ہے ، وہ لوگ جو خود اس سے گزر چکے ہیں اور ماضی میں برا بھلا کہہ چکے ہیں وہ کیوں اس میں ملوث ہوں گے یا آنکھیں بند کریں گے .

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف نے ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی ، پی ٹی آئی رہنماء فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ڈاکٹر شیریں مزاری کی بہیمانہ گرفتاری کے خلاف تحریک انصاف نے پورے ملک میں احتجاج کی کال دی ہے ، کارکنوں سے گزارش ہے آج شام 7 بجے پورے ملک میں اپنی مقامی قیادت کی ہدایات کی روشنی میں احتجاج کے لیے باہر نکلیں .

ادھر پاکستان تحریک انساف کی رہنماء شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے الزام عائد کیا ہے کہ میری والدہ کو حکومت کی جانب سے لاپتہ کیا گیا ہے ، میری والدہ کو غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے اغواء کیا گیا اور حکومت کی جانب سے شیریں مزاری کو لاپتہ کیا گیا ، آج میری ماں کو اس حکومت نے غیر قانونی طریقے آئینی طریقے سے اغوا کرکے جبری لاپتہ کیا ، حکومت ایسی حرکتیں کرے گی تو میں اس کے پیچھے آؤں گی ، یہ سمجھتے ہیں عورتیں آسان ٹارگٹ ہیں ، اگر میری ماں کو کچھ ہوا تو میں ان کو چھوڑوں گی نہیں .
قبل ازیں اپنے ایک ٹویٹ میں شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری نے بتایا کہ مرد پولیس اہلکار میری ماں کو گسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے ہیں ، مجھے صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ میری والدہ کو اینٹی کرپشن ونگ لاہور لے جایا گیا ہے .

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی رہنماء اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کو گرفتار کرلیا گیا ، اس ضمن مین پی ٹی آئی رہنماء افتخار درانی نے ٹویٹ کیا کہ شیریں مزاری کو ان کے گھر کے باہر سے اٹھا لیا گیا ، سب کارکن کوہسار پولیس اسٹیشن پہنچیں .

بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر شیریں مزاری کو ڈیرہ غازی خان میں مقدمہ درج ہونے پر گرفتار کیا گیا اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گا ہ سے اینٹی کرپشن ڈیرہ غازی خان کی ٹیم نے گرفتار کیا جب کہ شیریں مزاری کی گرفتاری کے وقت اینٹی کرپشن کی ٹیم کو مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا .

. .
Ad
متعلقہ خبریں