فردوس عاشق اعوان کو اسمبلی داخلے سے کیوں روکا گیا؟ سابق مشیر نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

لاہور(قدرت روزنامہ)وزیراعلی پنجاب کی سابق مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نےاسمبلی میں داخلے سے روکے جانے پر ق لیگ پر انگلی اٹھادی ہے۔

جی ٹی وی کے پروگرام میں اینکر پرس روف کلاسرا سے بات چیت کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ پرویزالہیٰ کےدل میں استحقاق بل کی بھی خلش ہوسکتی ہے۔ استحقاق بل کے حوالے سے بریفنگ کےلیےگئی تومیرےآگےسے صحافیوں نےاحتجاج میں مائیک ہٹایاجس پرمیں نے کہاکہ یہ بل حکومت کی جانب سےنہیں بلکہ ایک پرائیویٹ ممبرسےآیاتھاجسکےبعدمجھےاسمبلی سیکرٹری کافون آیاکہ میں نےایسابیان کیوں دیا؟ہمیں اپنے اتحادیوں کو ساتھ لیکر چلنا ہے چاہے وہ ترین گروپ ہو یا ق لیگ، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسی سے جھگڑنا نہیں کرنااور مفاہمت سے چلنا ہے اور ہم نے سب کے غصے کا مقابلہ پیار سے کرکےبجٹ پاس کرایا۔مجھےصوبائی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس بات کی انکوائری کی جائیگی کہ کس کے کہنے پر اسمبلی کے سیکورٹی سٹاف نے مجھے اندر جانے سے روکا۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات میں کامیاب امیدوار پی ٹی آئی میں میرا لایا ہوا شخص تھا اور اس نے حلف برادری تقریب کے مہمانوں کی فہرست میں میرا نام دیا ہوا تھا لیکن مجھے پھر بھی اندر جانے نہیں دیا گیا۔طارق بشیر چیمہ نے ضمنی الیکشن پر بیان دیا تو پرویز الہیٰ نے اپنے فیسبک پیج پر وضاحت دی کہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے بیانیہ کی جیت ہوئی۔مجھے اسمبلی گیٹ پر روکا گیا جو میرے لیے حیران کن ہے اس طرح کی حرکت چوہدری برادران کی وضع داری کو زیب نہیں دیتی۔

WhatsApp
Get Alert