ڈی جی تعیناتی کیس؛ سینیئر افسر کی جگہ جونیئر کی تعنیاتی پر عدالت برہم
کیا عدالت میں پیش ہوتے آپ کی ego hurt ہوتی ہے؟ جسٹس بابر کا وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سے استفسار

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ڈی جی تعیناتی کیس میں سینیئر افسر ڈاکٹر شہزاد افضل کی جگہ جونیئر افسر کی تعیناتی پر برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس بابر ستار نے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ذیلی ادارے پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے ڈی جی تعیناتی کیس کی سماعت کی۔ عدالتی حکم پر وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اسد الرحمان گیلانی عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے پرنسپل سیکرٹری و سیکرٹری کابینہ کی قائم مقام ڈی جی کی تعیناتی کے لیے 3 ہفتے کی مہلت کی استدعا منظور کر لی۔
جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ آپ پرنسپل سیکرٹری ہیں؟ کیا عدالت میں پیش ہوتے آپ کی ego hurt ہوتی ہے؟ پرنسپل سیکرٹری نے بتایا کہ میں ایک اہم میٹنگ میں تھا آپ کا پیغام ملتے ہی پہنچا، معذرت کرتا ہوں۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ سیکرٹری صاحب ہمیں سیکرٹریوں کو بلانے کا شوق نہیں، آپ معاملات چلاتے اس لیے بلاتے ہیں، ہر دو ماہ بعد کیس لگتاہے، یہ ہمارے لیے بھی شرمندگی ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے استدعا کی کہ تعیناتی کے لیے ایک آخری مہلت دی جائے۔ پرنسپل سیکرٹری نے بتایا کہ ایک ایجنسی نے رپورٹ دے دی اور ایک کی رپورٹ آنی ہے، جیسے پی رپورٹ آتی ہے آرڈر کر دیں گے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس میں کتنا وقت لگے گا؟ سیکرٹری کابینہ نے بتایا کہ دو سال سے معاملہ زیر التواء ہے میرے علم میں نہیں تھا۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو نہیں چار سال سے معاملہ زیر التواء ہے، مزید کتنا وقت لگے گا؟ سیکرٹری کابینہ نے بتایا کہ تین ہفتے لگ جائیں گے دوسری رپورٹ آتے ہی سمری بھجوا دیں گے۔
سیکرٹری وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ساجد بلوچ اور سیکرٹری کابینہ کامران علی افضل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے قائم مقام ڈی جی پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی تعیناتی کے لیے حکومت کو تین ہفتوں کا وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔