وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے نیدرلینڈز کی سفیر ہینی ڈی ویریز کی ملاقات، تعلیم، زراعت اور افغان مہاجرین کے امور پر تبادلہ خیال

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے نیدرلینڈز کی پاکستان میں تعینات سفیر ہینی ڈی ویریز نے بدھ کو چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔
ملاقات میں تعلیم، زراعت، واٹر مینجمنٹ اور افغان مہاجرین کے مسائل سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ افغان مہاجرین کی واپسی، رجسٹریشن اور پاکستان حکومت کے اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے نیدرلینڈز کی سفیر کو صوبے میں گورننس کی بہتری، نوجوانوں کی بہبود اور عوامی فلاح کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان حکومت آکسفورڈ سمیت دنیا کے معروف تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کے لیے اسکالرشپس فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں۔ اس کے علاوہ، ہر ضلع سے بلوچستان بورڈ کے میٹرک کے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات اور سویلین شہداء کے بچوں کے سولہ سالہ تعلیمی اخراجات بھی صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ بلوچستان حکومت 30 ہزار نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت دے کر بیرون ملک بھیجے گی تاکہ وہ ہنر مند بن کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت سینکڑوں نوجوانوں کو بااختیار بنایا جا رہا ہے جو نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کریں گے بلکہ پاکستان کے لیے زر مبادلہ بھی حاصل کریں گے۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ تاریخ میں پہلی بار بلوچستان میں اقلیتی برادری کے لیے سالانہ 100 اسکالرشپس رکھی گئی ہیں جبکہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے لیے بھی سالانہ 100 اسکالرشپس مختص کی گئی ہیں تاکہ وہ بھی تعلیم اور ترقی کے مواقع سے مستفید ہو سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میرٹوکریسی کو فروغ دے کر بلوچستان کے نوجوانوں کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حالات اتنے خراب نہیں جتنا تاثر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں حکومت کی رٹ مکمل طور پر قائم ہے اور عالمی برادری کو بھی زمینی حقائق کے مطابق اپنا تاثر درست کرنا ہوگا۔
افغان مہاجرین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ون ڈاکومنٹ رجیم کے تحت افغان مہاجرین کی رجسٹریشن جاری ہے اور پاکستان نے طویل عرصے تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں استحکام آنے پر مہاجرین کو رضا کارانہ طور پر واپس جانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پاک افغان سرحدی علاقوں سے روزانہ تقریباً پانچ ہزار افراد پاسپورٹ کے ذریعے سفر کر رہے ہیں، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے نیدرلینڈز کی سفیر کو یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام اور سماجی خدمات میں تعاون کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت اس معاونت کو خوش آمدید کہے گی۔ انہوں نے نیدرلینڈز کی سفیر کے ساتھ صوبے میں زراعت اور پانی کے بہتر استعمال کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا اور اس سلسلے میں باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
نیدرلینڈز کی سفیر ہینی ڈی ویریز نے بلوچستان حکومت کے اقدامات کو سراہا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔