مولانا فضل الرحمان پر بھی الزامات، ریاستی ادارے حکومتیں گرانے اور چلانے کا کردارادا کر رہے ہیں: علی امین گنڈاپور

لاہور(قدرت روزنامہ)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ سیاست کرنا ریاستی اداروں کا کام نہیں، ریاستی ادارے حکومتیں گرانے اورچلانے کا کردارادا کررہے ہیں, مولانا فضل الرحمان منافق آدمی ہے، وہ ابھی بھی اندر سے اسٹیبلشمنٹ سے ملا ہوا ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےعلی امین گنڈاپور نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے جعلی الیکشن اور حکومت گرانے میں کردار ادا کیا، مولانا فضل الرحمان نے خود کہا کہ جنرل باجوہ کے کہنے پر انہوں نے ہمارے حکومت گرائی۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے متعلق پارٹی نے بیان دینے سے منع کیا تھا، مولانا فضل الرحمان ایک منافق آدمی ہے، مولانا فضل الرحمان ابھی بھی اندر سے اسٹیبلشمنٹ سے ملا ہوا ہے، مولانا فضل الرحمان نے مذہب کے نام پر ووٹ لیا، مولانا فضل الرحمان کی اوقات یہ ہے کہ وہ اپنے حلقے سے ضمانت ضبط کروا چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے جیتنے والے کو کے پی سے متعلق بولنے کا حق نہیں، مولانا فضل الرحمان کو چیلنج ہے کہ میرے بھائی کے خلاف بھی الیکشن جیت کردکھا دیں، مولانا فضل الرحمان اگر نہ جیت سکے تو سیاست چھوڑ دیں، اگر میرا بھائی مولانا سے الیکشن ہارا تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی تبدیلی کے لیے ہمیشہ 90دن کا کہا کرتے تھے، آج سے وہ 90دن شروع ہوگئے ہیں، بانی کی رہائی کے لیے تحریک شروع کی جا رہی ہے، پورے پاکستان میں ہر گلی، کوچے، قصبے اور شہر سے لوگوں کو اکٹھا کریں گے اور پھر فیصلہ کریں گے کہ ہم نے مقامی سطح پر احتجاج کرنا ہے یا ایک جگہ جمع ہونا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج قوم میں شعور آگیا ہے، 8فروری کو ثابت ہو اکہ قوم جاگ گئی ہے، بانی پی ٹی آئی کے کیسز میں کچھ ہے ہی نہیں، بانی کے کیسز نہیں چلائے جارہے کیونکہ ان میں کچھ ہے ہی نہیں، دنیا کی سیاسی تاریخ میں اتنا ظلم وجبر نہیں ہوا جتنا پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا، ہمارے خلاف مقدمات میں انہیں کچھ نہیں ملا، ریاستی ادارے اس کام پر لگ گئے ہیں جو ان کا کام نہیں، آپ اس ملک کو کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں؟
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں خود ایک فوجی کا بیٹا اوربھائی ہوں، ہم نے اپنے ادارے خود ٹھیک کرنے ہیں، آئیں مل کر بیٹھیں اپنی غلطی کو مانیں اورسب ٹھیک کریں، آج بانی پی ٹی آئی کی بیوی کو بھی جیل میں ڈالا ہوا ہے، بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے پاکستان کی خاطر مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہوں۔
علی امین نے کہا کہ یہ سیاسی پارٹیاں دوسروں کے کندھوں پر بیٹھ کر آئی ہوئی ہیں، عوام ان سیاسی پارٹیوں کو مسترد کرچکے ہیں، یہ سیاسی پارٹیاں عوام میں نکل کر تو دیکھیں، اس ملک کا قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہئے، آپ کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔
کے پی کے وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے وقت دہشت گردی کیوں نہیں تھی؟ پی ڈی ایم ون آئی وہی حالات بن گئے، پی ڈی ایم ٹو آئی تو پہلے سے بھی بدتر حالات ہوگئے، مجھ پر 26نومبر کی 56ایف آئی آرز درج ہوئی ہیں، آپ دلائل سے بات کریں ،ثابت کریں کہ میں نے ملک سے غداری کی ہے تو چوک پر لٹکادیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنی ذات اورانا سے نکلیں اور قوم کیلئے سوچیں، بانی نے پہلے بھی کہا آئیں بیٹھیں میرٹ اوردلائل پر بات کریں، ہماری گزارش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، بانی نے ہمیں ایک چیز سکھائی تھی کہ سیاست کیلئے نہیں جنریشن کیلئے کام کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ڈیڈ لاک کہیں بھی نہیں ہوسکتا، وقت ضائع کرکے مقاصد حاصل کیے جارہے ہیں، ہماری مخصوص نشستیں بھی لے لی گئیں، ان کی ٹائم لائن پر چلنا ہمیں سوٹ نہیں کررہا، میری یہ تربیت ہے کہ بانی پی ٹی اورپاکستان کے لیے کھڑا ہوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں میں کسی سے ملا ہوں، میں پاکستان کے لیے سب سے ملا ہوا ہوں، میرا لیڈر اور اس کی بیوی جیل میں ہے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی نہایت ضروری ہے، بانی ہی پاکستان کے مسائل حل کرا سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہم کل لاہور میں جلسہ کرنے کیلئے اجازت مانگیں گے، اجازت دی جائے، ہم پرامن آئے ہیں اورپرامن انداز سے ہی واپس جارہے ہیں۔
