کوئٹہ زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم: پانی، بجلی اور صفائی کا بحران سنگین، شہری رُل گئے

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ آج (22 اکتوبر 2025) زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہو کر رہ گیا ہے۔ شہر کے لاکھوں شہری پینے کے صاف پانی، بجلی کی بلا تعطل فراہمی، گیس اور صفائی ستھرائی کے ناقص نظام کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، جس پر شہری حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پانی کا بحران خطرناک مرحلے میں داخل: کوئٹہ میں پانی کا بحران خطرناک حد تک سنگین ہو چکا ہے، جس کا اعتراف ستمبر 2025 میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے بھی کیا۔ زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گر جانے کے باعث واسا (WASA) شہریوں کو پانی فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ آج (22 اکتوبر 2025) کی اطلاعات کے مطابق، شہر کے اکثر وسطی و نواحی علاقوں میں پانی نایاب ہے اور شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ کوئٹہ کے علاقے ایئرپورٹ ولاز میں گزشتہ ایک سال سے واسا کا ٹیوب ویل خراب ہے، جس کی وجہ سے علاقہ مکین ٹینکر مافیا سے مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ اگست 2025 میں انتظامیہ نے غیر قانونی کنکشن منقطع کرنے اور نجی سپلائرز کو ریگولیٹ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، تاہم بحران جوں کا توں ہے۔
بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ: شہریوں کو نہ صرف پانی بلکہ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کا بھی سامنا ہے۔ اگرچہ اگست 2025 میں کیسکو (QESCO) کی جانب سے مرمتی کاموں کے لیے بجلی بندش کا شیڈول جاری کیا گیا تھا، لیکن شہریوں کو غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا بھی سامنا ہے۔ اس کے علاوہ، سوئی سدرن گیس کمپنی نے اپریل 2025 میں موسم گرما کے لیے رات 10 بجے سے صبح 5 بجے تک گیس کی فراہمی بند کرنے کا شیڈول جاری کیا تھا، جس سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔
صفائی اور صحت کی ابتر صورتحال: شہر میں صفائی ستھرائی کا نظام بھی ناقص ہے۔ اگرچہ 17 اکتوبر 2025 کو وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے تحت صفائی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ایک شکایت سیل قائم کیا گیا ہے، لیکن کئی علاقوں میں گندگی کے ڈھیر اور سیوریج کے مسائل موجود ہیں۔ صحت کی سہولیات کا حال بھی ابتر ہے؛ ایک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں بنیادی سہولیات اور جدید مشینری کی کمی ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو علاج کے لیے کراچی جیسے دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
تعلیمی سہولیات کا فقدان: زندگی کی دیگر بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ شہر میں تعلیمی ڈھانچہ بھی متاثر ہے۔ مارچ 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق، کوئٹہ کے اسکولوں میں بھی بنیادی سہولیات جیسے صاف پانی اور مناسب صفائی کا فقدان ہے، جو تعلیمی معیار کو متاثر کر رہا ہے۔
شہریوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ دارالحکومت کو درپیش ان سنگین بحرانوں کے حل کے لیے زبانی دعوؤں کے بجائے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا معیار زندگی بہتر ہو سکے۔
