کوئٹہ میں انوکھا قانون — ائیرپورٹ روڈ کی خوبصورتی پر اربوں روپے خرچ، مگر محلقہ آبادیاں بنیادی سہولیات سے محروم

ایئرپورٹ روڈ سے متصل عالمو چوک، کلی عالم خان اور اطراف کی گلیاں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں، سیوریج نظام تباہ


کیا سی ایم کوئٹہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ ’’سفید ہاتھی ‘‘ بن رہا ہے ؟
کوئٹہ (قدرت روزنامہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ترقیاتی منصوبوں کی غیر منصفانہ تقسیم اور ترجیحات کے فقدان نے شہریوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ ائیرپورٹ روڈ پر اربوں روپے کی لاگت سے “خوبصورتی” کے نام پر منصوبے جاری ہیں، مگر اسی روڈ کے اطراف میں رہائش پذیر شہری زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ائیرپورٹ روڈ کو خوبصورت بنانے کے نام پر حکومت کی جانب سے مختلف مقامات پر دیواریں اور گیٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں، حتیٰ کہ عام شہریوں کی ہاؤسنگ اسکیموں کے داخلی راستوں تک حکومت خود گیٹ بنا رہی ہے۔ دوسری جانب ائیرپورٹ روڈ کے اطراف واقع علاقوں — عالمو چوک، کلی عالم خان اور دیگر محلوں — کی گلیاں اور سڑکیں مکمل طور پر تباہ حالی کا شکار ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق ان علاقوں میں سیوریج لائنیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، گندہ پانی گلیوں میں جمع رہتا ہے، جبکہ برسوں سے نہ سڑکوں کی مرمت ہوئی ہے نہ نکاسی آب کا کوئی نظام درست کیا گیا ہے۔
عوامی نمائندوں نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “سی ایم کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج” کے تحت ائیرپورٹ روڈ کی خوبصورتی پر اربوں روپے خرچ کرنے کے بجائے، انہی فنڈز کو شہریوں کی بنیادی سہولیات — سیوریج، پینے کے پانی، سڑکوں اور نکاسی نظام — پر خرچ کیا جانا چاہیے۔
شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ائیرپورٹ روڈ پر ہر چند ماہ بعد “خوبصورتی” کے نام پر نئے منصوبے کیوں شروع کیے جاتے ہیں، اور ہر بار چند ماہ بعد وہ منصوبے تباہ کیوں ہو جاتے ہیں؟ عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان اور اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ائیرپورٹ روڈ پر بار بار اربوں روپے کے منصوبے شروع کرنے والوں کے خلاف فوری انکوائری کا آغاز کیا جائے اور شفاف تحقیقات کے ذریعے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے۔

WhatsApp
Get Alert