وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا محمود خان اچکزئی سے اہم ملاقات: قومی امور اور فوجی آپریشنز پر مشاورت

تحریک تحفظ آئین پاکستان کا کے پی کے آئینی حقوق میں مکمل ساتھ دینے کا اعلان؛ 27ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی پر تحفظات کا اظہار


اسلام آباد ( ڈیلی قدرت )وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل خان آفریدی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے گھر آمد کے دوران قومی اور سیاسی امور پر اہم مشاورت کی۔ اس ملاقات میں سینیٹ میں نامزد اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ ناصر عباس، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر کے پی جنید اکبر، ایم این ایز عاطف خان، علی اصغر خان، ڈاکٹر امجد، ارباب شیر علی، اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی اور بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران خیبر پختونخواہ میں جاری فوجی آپریشنز اور صوبے کے عوام کو درپیش دیگر مسائل زیر بحث آئے۔ دونوں رہنماؤں نے بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ ستائیسویں آئینی ترمیم اور اس کے صوبائی خودمختاری پر اثرات پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ این ایف سی ایوارڈ میں سابقہ فاٹا کے لیے رکھے گئے اضافی حصہ کے وعدوں کی عدم تکمیل کا معاملہ بھی اٹھایا گیا اور یہ متفقہ رائے دی گئی کہ این ایف سی میں مزید چھیڑ چھاڑ قومی وحدت کے لیے خطرناک ہوگی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس دوران کرم میں قیام امن کے حوالے سے بھی بات چیت کی اور پشاور میں امن جرگہ کے حوالے سے مشاورت اور دعوت دی۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے خیبر پختونخواہ حکومت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ صوبے کے تمام آئینی حقوق کے حصول میں ان کا بھرپور ساتھ دے گی۔

WhatsApp
Get Alert