بلوچستان اسمبلی اجلاس‘ کراچی میں پشتون کے ہونیوالی ناانصافیوں سے متعلق سندھ پولیس کے خلاف مشترکہ قرارداد منظور

کراچی میں بلوچستان کے لوگ ہوٹل اور دیگر کاروبار کرتے ہیں، لیکن انہیں وہاں مشکلات اور تنگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘رکن صوبائی اسمبلی اصغر علی ترین نے قرارداد پیش کی ‘ مسلم لیگ کے اراکین، نیشنل پارٹی اور دیگر اپوزیشن اراکین نے قرارداد کی حمایت کی پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کسی کو تنگ نہیں کرنا چاہتے اور اپوزیشن سے درخواست کی کہ وہ اپنی قرارداد واپس لے‘میر صادق عمرانی‘ کراچی میں ساڑھے تین کروڑ کی آبادی ہے اور سندھ حکومت نے کسی کو تنگ نہیں کیااگر کوئی مسئلہ ہے تو بلوچستان حکومت سندھ حکومت سے بات کرنے کے لیے تیار ہے‘میر علی حسن زہری کراچی میں کاروبار کرنے والے پشتونوں کو مشکلات کا سامنا ہے‘زرک مندوخیل‘ بلوچستان کے عوام کو سندھ میں ذلیل کیا جا رہا ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ سے اس مسئلے پر بات کی جائے‘مولانا ہدایت الرحمن ‘ سندھ میں پشتونوں پر ظلم ہو رہا ہے،ملک نعیم بازئی‘ پرنس آغا عمر احمد زئی نے اس مسئلے کے حل کے لیے کمیٹی بنانے کی تجویز دی اراکین اسمبلی کی تجویز پرپارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ حکومت بلوچستان سندھ میں پشتونوں اور بلوچستان کے شہریوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔اپوزیشن رکن صوبائی اسمبلی اصغر علی ترین نے سندھ اور کراچی میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے افراد اور پشتون برادری کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے بارے میں قرارداد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بلوچستان کے لوگ ہوٹل اور دیگر کاروبار کرتے ہیں، لیکن انہیں وہاں مشکلات اور تنگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اصغر علی ترین نے سوال اٹھایا کہ کراچی میں بلوچستان کے عوام کو تحفظ کون دے گا اور کہا کہ پشتونوں کو سندھ میں ذلیل کیا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر میر صادق عمرانی نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کسی کو تنگ نہیں کرنا چاہتے اور اپوزیشن سے درخواست کی کہ وہ اپنی قرارداد واپس لے۔ تاہم مسلم لیگ کے اراکین، نیشنل پارٹی اور دیگر اپوزیشن اراکین نے قرارداد کی حمایت کی۔ زرک خان مندوخیل نے کہا کہ کراچی میں کاروبار کرنے والے پشتونوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور بلوچستان میں مہاجرین سے بھتہ بھی لیا جاتا ہے۔ مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو سندھ میں ذلیل کیا جا رہا ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ سے اس مسئلے پر بات کی جائے۔ رکن صوبائی اسمبلی ملک نعیم بازئی نے کہا کہ سندھ میں پشتونوں پر ظلم ہو رہا ہے، جبکہ پرنس آغا عمر احمد زئی نے اس مسئلے کے حل کے لیے کمیٹی بنانے کی تجویز دی۔ برکت علی رندنے کہا کہ سندھ میں پشتونوں پر ہونے والے مظالم کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ اور آئی جی سندھ سے ملاقات کی جائے۔صوبائی وزیر علی حسن زہری نے کہا کہ کراچی میں ساڑھے تین کروڑ کی آبادی ہے اور سندھ حکومت نے کسی کو تنگ نہیں کیااگر کوئی مسئلہ ہے تو بلوچستان حکومت سندھ حکومت سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔اجلاس میں بلوچستان اسمبلی نے سندھ پولیس کے خلاف مشترکہ قرارداد منظور کر لی، جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی اور سندھ میں بلوچستان کے شہریوں کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔ اراکین اسمبلی کی تجویز پرپارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ حکومت بلوچستان سندھ میں پشتونوں اور بلوچستان کے شہریوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے۔

WhatsApp
Get Alert