گرینڈ الائنس کے مطالبات برحق ہیں، حکومت وعدہ خلافی چھوڑ کر فی الفور عملدرآمد کرے: نصراللہ زیرے

نجکاری روکی جائے، تنخواہوں اور الاؤنسز میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے، ملازمین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے: پشتونخوا نیپ


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے کہا ہے کہ گرینڈ الائنس کے تمام مطالبات برحق، جائز اور آئینی ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ ان مطالبات کو فی الفور تسلیم کرتے ہوئے ان پر بلا تاخیر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ملازمین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کی جائز جدوجہد میں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ملازمین کے گرینڈ الائنس کے احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا ایک وفد بھی موجود تھا، جس میں صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، صوبائی آفس سیکریٹری ندا سنگر، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز فیاض خان اور محمود ریاض، پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن محبت خان مندوخیل، پارٹی اراکین انجینئر ملک شعیب خان، سید نور اچکزئی، اجمل خان اور دیگر شامل تھے۔
گرینڈ الائنس کے احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی گرینڈ الائنس کے مطالبات تسلیم کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب تک ان وعدوں پر کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آ رہی، جو حکومت کی نااہلی اور وعدہ خلافی کا واضح ثبوت ہے۔
مقررین نے کہا کہ گرینڈ الائنس کا چارٹر آف ڈیمانڈ مکمل طور پر جائز اور آئینی تقاضوں کے عین مطابق ہے، جسے تسلیم کرنا حکومت پر لازم ہے۔ مطالبات میں شامل ہے کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے فوری اضافہ کیا جائے، ملازمین کی تنخواہوں میں موجود تفریق اور عدم مساوات کا خاتمہ کیا جائے، پنشن رولز میں اصلاحات کے نام پر جاری ملازم دشمن نوٹیفکیشنز فوری طور پر واپس لیے جائیں، اور ریٹائرمنٹ کا عمل پنجاب کے طرز پر خودکار اور آن لائن کیا جائے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ اداروں کی نجکاری اور پرائیوٹائزیشن کے عمل کو فوری طور پر روکا جائے، کنٹریکٹ اور ایڈہاک تعیناتیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے، تمام ملازمین کے ہاؤس رینٹ، میڈیکل الاؤنس اور کنوینس الاؤنس میں سو فیصد اضافہ کیا جائے، جبکہ اے جی آفس سے مالی اختیارات واپس لے کر ضلعی سطح پر خزانہ دفاتر کو منتقل کیے جائیں تاکہ انتظامی امور میں شفافیت اور سہولت پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ تمام محکموں کے ملازمین کو اپ گریڈیشن اور ٹائم اسکیل دیا جائے، ملازمین کی تنخواہوں پر عائد بھاری ٹیکس کٹوتیوں میں نمایاں کمی کی جائے، اور تمام نجی اداروں، کمپنیوں، کول مائنز اور صنعتی یونٹس کے مزدوروں کو ای او بی آئی اور سوشل سیکیورٹی میں رجسٹر کر کے لیبر قوانین کے تحت مکمل حقوق اور تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کول مائنز میں آئے روز ہونے والے حادثات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں ایسوسی ایشنز اور یونینز پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں اور مزدور و ملازم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں سے باز رہا جائے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ تمام ملازمین کو یوٹیلیٹی الاؤنس اور ہاؤس ریکوزیشن کی سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے ملازمین کے جائز مطالبات پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert