ہرنائی: تور خان کے مقام پر فائرنگ سے شہری شہید، 40 چوکیاں ہونے کے باوجود دہشتگردی کیوں؟ وسائل پر قبضے کیلئے بدامنی پھیلائی جا رہی ہے، عوام کو بیدخل کرنے کا منصوبہ ہے: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی


ہرنائی(ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ضلعی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ہرنائی سنجاوی روڈ پرتور خان کے مقام پر دہشت گردوں کی جانب سے سینکڑوں گاڑیوں و دیگر ٹرانسپورٹ کا راستہ بند کرکے نہتے و بے گناہ شہریوں پر فائرنگ اور ایک موٹر سائیکل سوار شہید اور دوسرا ساتھی شدید زخمی کرنے کے واقعے کی پشتونخوامیپ سخت مذمت کرتی ہے۔پشتونخوامیپ کے ضلعی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ایسے بزدلانہ واقعات ہرنائی میں ایف سی کی تعیناتی کے پہلے ہی مہینے سے شروع ہوچکا ہے ہرنائی میں امن و امان کے نام پر چپرلیٹ سے لے کر سپین تنگی اورتورخان تک کم ازکم 40 چوکیاں موجود ہیں جن میں بھاری نفری اور جدید اسلحہ کے ساتھ ساتھ نائٹ ویژن کیمرے اور دیگر جدید قسم کے جرائم ورکنے کے آلات موجود ہے اور ساتھ ہی تمام اداروں کی اٹیلیجنس کا نیٹ ورک موجود ہے لیکن اس تمام تر سہولیات کے باوجود ہرنائی جیسے پُرامن علاقے میں ایسے دہشت گردی اور خوف وہراس کے پھیلانے کے واقعات روزل کا معمول بن چکے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات کا اصل مقصد علاقے میں بدامنی پھیلا کر عوام کو بیدخل کرکے یہاں کے قدرتی وسائل پر قبضہ جمانا ہے اس مقصد کے حصول کے لیے کئی سالوں سے منصوبہ بندی کی گئی ہے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے نام نہاد بی ایل اے بنا کر بدامنی پھیلائی گئی پھر اس کے آڑ میں یہاں ایف سی تعینات کی گئی اور مزید اس ناروا عمل کو عملی جامہ پہنانے کے لیے الیکشن کے نام پر درانہ رچا کر غیر او غیر قانونی فارم سینتالیس کے ذریعے جعلی نمائندوں کو عوام پر مسلط کیے گئے تاکہ اسمبلی میں حقیقی نمائندے نہ جاسکے کیونکہ اگر عوام کے حقیقی نمائندے اسمبلی میں ہوں گے تو وہ اس ناروا ظلم و جبر آئے روزبے گناہ عوام کے قتل عام کوئلے سے لدے ٹرکوں اور لیزوں کو نذر آتش کرنے مائینز مزدوروں کو اغوا کرکے بھتہ وصولی کے رہا پر خاموش تماشاء نہیں بنے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ گھروں میں ڈاکے پڑنا لوکل لوگوں کو رات کی تاریکی میں اپنے گھروں سے اٹھانے کا عمل بھی جاری ہوچکا ہے جسکی پشتونخوامیپ شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور ساتھ ان تمام تر واقعات میں حکومت کو ملوث سمجھتی ہے اگر ایسا نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی بھاری ایف سی کی تعیناتی پولیس لیویز اور اینٹلیجنس نیٹ ورک کے باوجود آج تک کسی بھی واقعے کا کوئی بھی ملزم نہ گرفتار ہوچکا ہے اور نہ ہی عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے تور خان واقعے کے ملزم کو جلد از جلد گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔

WhatsApp
Get Alert