شدت پسندی کا خاتمہ سب سے بڑا چیلنج ہے، نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے بزنس فیسیلٹیشن سینٹر سے سہولیات دیں گے، راحیلہ حمید خان درانی

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)حکومت بلوچستان کے محکمہ داخلہ کی جانب سے کاونٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کے موضوع پر تین روزہ پالیسی ڈائیلاگ کی اختتامی تقریب سے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلال کاکڑ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ مامون حمید،ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری اغا محمد یوسف، ڈاکٹر عبدالقادر، چیف کوآرڈینیشن آفیسر سی وی ای ڈاکٹر دوست محمد بڑیچ، ڈاکٹر عصمت اللہ و دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ شدت پسندی کا خاتمہ ہمارے صوبے اور ملک کا سب سے بڑا چیلنج ہے جس پر قابو پانے کیلئے ہم سب نے ملکر کردار ادا کرنا ہوگا، اس حوالے سے تعلیمی نصاب میں تبدیلی کیلیے اقدامات اٹھائے جائینگے کیونکہ مثبت سوچ ہی نوجوانوں کو تابناک مستقبل کی طرف لے جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں بند اسکولوں کی بحالی، میرٹ پر اساتذہ کی بھرتی اور یونیورسٹیوں کو فنڈز کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے۔ بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلال کاکڑ نے کہا کہ صوبے میں انٹرپرینیورشپ اور انویسٹمنٹ کو فروغ دینے کے لیے بزنس فیسیلٹیشن سینٹر کا افتتاح بہت جلد کیا جائے گا تاکہ نوجوان سرکاری نوکریوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنا کاروبار شروع کریں، سینٹر میں فائل کی پروسیسنگ صرف 15 دنوں میں ہوگی اور تاخیر کی صورت میں آٹو جنریٹڈ ای میل سیکرٹری اور چیف سیکرٹری کو جائے گی۔ ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ مامون حمید نے کہا کہ پالیسی ڈائیلاگ میں میڈیا، پروفیسرز، علماکرام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شرکت قابل ستائش ہے جس سے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے لائح عمل پر غور کیا گیا۔ تقریب میں ڈاکٹر دوست محمد نے بلوچستان کے جیو اکنامک پوٹینشل پر پریزنٹیشن پیش کی۔
