’لاہور کی نکاح والی گلی‘: کریم آباد انڈر پاس کی ویڈیو شیئر کرنے پر میئر کراچی تنقید کی زد میں آگئے
'اس انڈرپاس سے تو کوئی پتلی سی حسینہ ہی گزر سکتی ہے': سوشل میڈیا صارفین کے مزاحیہ تبصرے، لاہور سے موازنہ

کراچی(قدرت روزنامہ)میئر کراچی مرتضیٰ وہاب صدیقی کو کریم آباد انڈر پاس کی ایک ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کرنے کے بعد عوام کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔
میئر کراچی نے 2 مارچ 2026 کی رات دیر گئے ایک ویڈیو ٹویٹ کی جس کا مقصد عوام کو یہ دکھانا تھا کہ انڈر پاس کی تعمیر کا کام کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔
Karimabad Underpass pic.twitter.com/d6ALdOMvC2
— Murtaza Wahab Siddiqui (@murtazawahab1) March 1, 2026
تاہم شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو کو پسند کرنے کے بجائے اس پر شدید ناراضی کا اظہار کیا اور ویڈیو کے اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے اسے ناقص منصوبہ بندی قرار دیا ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ یہ انڈر پاس جس طریقے سے بنایا گیا ہے وہ ٹریفک انجینئرنگ اور حفاظتی اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔
تنقید کرنے والوں نے نشاندہی کی ہے کہ اس انڈر پاس میں سڑک کے اطراف کوئی اضافی جگہ یا ایمرجنسی مارجن نہیں رکھا گیا۔
ریاست پاکستان اور آرمی چیف صاحب @OfficialDGISPR
اگر یہ واقعی سنگل لین انڈر پاس ہے اور اس میں نہ روڈ سائیڈ کلیئرنس ہے، نہ ایمرجنسی مارجن، نہ بریک ڈاؤن لین — تو کیا متعلقہ حکام نے یہ سوچا ہے کہ اگر اندر کوئی گاڑی یا ٹرک خراب ہو جائے تو کیا ہوگا؟
کیا پورا ٹریفک اس وقت تک رُکا رہے… pic.twitter.com/14psxn6Qno— Abdul only (@Abdulonly99) March 4, 2026
اس ڈیزائن کے حوالے سے سب سے بڑا خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر انڈر پاس کے اندر کوئی گاڑی یا ٹرک خراب ہو جاتا ہے تو پیچھے سے آنے والی ٹریفک کے لیے کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
Karimabad Underpass pic.twitter.com/d6ALdOMvC2
— Murtaza Wahab Siddiqui (@murtazawahab1) March 1, 2026
شہریوں کے مطابق بریک ڈاؤن لین کی عدم موجودگی کی وجہ سے نہ صرف پورا راستہ بند ہو جائے گا بلکہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ جیسی ہنگامی خدمات کی رسائی بھی ناممکن ہو جائے گی۔
Agar koi gari ya truck yahan kharab ho jata hai tu matlb kam tamam?
— Aashir 🇵🇸 (@Jemineyee) March 2, 2026
شہریوں نے تنگ انڈرپاس کے اندر پلرز پر بھی تنقید کی۔
سر جی اگر کسی کی گاڑی خراب ہو جاے تو پھر کیا کرنا ہے وہ نہیں بتایا آپنے
— Abdul Haleem Leghari (@AHaleemLaghari) March 2, 2026
جبکہ ایک صارف نے اسے ’لاہور کی نکاح والی گلی‘ قرار دیا۔
یہ کیا موٹر سائیکل کا انڈر پاس ہے؟ یہ بیچ میں اتنے پلرز کس لیے ہیں؟ یہاں تو ٹریفک اور جام ہو گا
— Vaquas Alvi (@VaquasAlvi_) March 2, 2026
ایک سوشل میڈیا صارف نے کراچی کے اس انڈر پاس کا موازنہ لاہور کے انڈر پاسز سے کرتے ہوئے لکھا کہ ”لاہور کے سب سے کم ترقی یافتہ علاقے میں بھی اس سے بہتر راستے موجود ہیں“۔
لاہور میں نکاح والی تنگ گلی ہے تو کراچی میں کریم آباد انڈر پاس ہے۔ ہور کوئی خدمت ؟ pic.twitter.com/P1kFhdA6RZ
— Anis Farooqui (@TheAnisFarooqui) March 4, 2026
شہریوں نے میئر کراچی پر زور دیا ہے کہ شہری منصوبہ بندی میں صرف وقتی طور پر ٹریفک کی روانی دکھانے کے بجائے پائیداری اور عوام کی سلامتی کو ترجیح دینی چاہیے۔
صارفین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے نامکمل اور ناقص ڈیزائن والے منصوبے مستقبل میں بڑے حادثات اور شدید ٹریفک جام کا سبب بن سکتے ہیں۔
کچھ صارفین نے ویڈیو پر مزاحیہ تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ ”اس انڈر پاس سے صرف پتلی سی حسینہ ہی گزر سکتی ہے“۔
Come to Lahore and take a look at CBD Underpass, then compare it to this shit. Na aesthetics ka pta na sheher chalana ata hai hai. Agr zara si bhi sharam hai to resign krdete. Ugliest underpass I've ever seen. Least developed area of lahore prob has better path than this.
— lethargy (@Something_ToBee) March 2, 2026
دوسری جانب کراچی کے ایک صحافی عاطف حسین نے ناقدین کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ”کلپ میں انڈر پاس کا ایک ٹریک نظر آرہا ہے ورنہ یہ انڈر پاس کافی بڑا ہے اور اس کے فعال ہو جانے کے بعد عوام کو کافی سہولت میسر آئے گی“۔
شرم بھی نا آئی حسینہ کی بل کھاتی کمر جیسا انڈر پاس اور سے کی یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے 😱
زرداری صاحب اور بلاول بھٹو صاحب @BBhuttoZardari آپ انہیں تیس سال بھی دے دیں یہ نااہل ہیں ان سے کچھ نہیں ہوسکتا— Junaid Raza Zaidi (@junaidraza01) March 2, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ ”تعمیر پر تنقید کرنے والے انجینئر نہیں ہیں، جو لکھ رہے ہیں سیاسی مخالفت میں لکھ رہے ہیں، انڈر پاس فعال ہوگا تو ساری خامیاں خوبیاں سامنے آجائیں گی“۔
کریم آباد انڈر پاس کی تعمیر کا آغاز مئی 2023 میں ہوا تھا اور اسے ابتدائی طور پر 10 ماہ کی مدت میں مکمل کر کے اکتوبر 2024 میں کھولا جانا تھا، تاہم، اس کے تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ فنی رکاوٹیں بتائی گئی تھیں۔ اس تاخیر نے علاقے کے دکانداروں اور وہاں سے گزرنے والے مسافروں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رکھی ہیں۔
اوریجنل پی سی ون کے مطابق اس منصوبے کی تخمینہ لاگت 1.34 ارب روپے تھی۔ تاہم، محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات (پی اینڈ ڈی) کے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سیل (ایم ای سی) نے 30 جنوری کو وزیراعلیٰ سندھ کو جو رپورٹ جمع کرائی اس کے مطابق اب لاگت 3 ارب 81 کروڑ 7 لاکھ 47 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔
کلپ میں انڈر پاس کا ایک ٹریک نظر آرہا ہے ورنہ یہ انڈر پاس کافی بڑا ہے اور اس کے فعال ہو جانے کے بعد عوام کو کافی سہولت میسر آئے گی
اب تعمیر پر تنقید کرنے والے انجینئر نہیں ہیں جو لکھ رہے ہیں سیاسی مخالفت میں لکھ رہے ہیں
انڈر پاس فعال ہوگا تو ساری خامیاں خوبیاں سامنے آجائیں گی— Atif Hussain (@AtifTalks) March 2, 2026
