عالمی افق پر بڑی سفارتی تبدیلی: ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانتیں دینے پر تیار
امریکہ کے ساتھ تنازع کے مکمل خاتمے اور جامع معاہدے کیلئے گرین سگنل دے دیا

واشنگٹن/تہران(قدرت روزنامہ)امریکی میڈیا کی رپورٹس نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے، جس کے مطابق ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے اپنے سخت موقف میں لچک دکھاتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنانے کے لیے تمام ضروری اور عالمی سطح پر قابلِ قبول ضمانتیں دینے پر تیار ہے۔ تاہم، تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے اپنے بنیادی حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
امریکی ذرائع ابلاغ نے ایرانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں تیزی آئی ہے۔ اگرچہ یہ رابطے ابھی تک باضابطہ مذاکرات کی شکل اختیار نہیں کر سکے، لیکن ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے “سنجیدہ اور پائیدار” تجاویز سننے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ زیرِ غور تجاویز محض عارضی جنگ بندی تک محدود نہیں ہیں، بلکہ فریقین کے درمیان دہائیوں سے جاری تنازع کے مستقل حل کے لیے ایک “جامع معاہدے” (Comprehensive Deal) پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت مختلف عالمی ثالثوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اہم پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، جو خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک بڑا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ کوششیں رنگ لاتی ہیں تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور امن و امان پر اس کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
