پٹرول بحران کا خدشہ، پمپ مالکان نے ہڑتال کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو ملک بھر کے پیٹرول پمپس بند کردیئے جائیں گے۔
ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے فوری ملاقات کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر کو لکھے گئے خط میں وائس چیئرمین نعمان علی بٹ نے موقف اختیار کیا کہ ملک بھر میں پیٹرول پمپ مالکان آپریشنل، مالیاتی، قیمتوں کے تعین اور ہنگامی حالات (فورس میجر) سے متعلق سنگین مسائل کا شکار ہیں۔
یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں سامنے آئی ہے جس کے نتیجے میں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔
خط میں کہا گیا کہ 6 مارچ کو بھی یہی مسائل اٹھائے گئے لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم سیکٹر سے متعلق پالیسی سازی میں اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ ملک بھر میں تقریباً 14 سے 15 ہزار پٹرول پمپ مالکان کے مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں اور اس سلسلے میں فوری اجلاس ضروری ہے۔
خط میں متنبہ کیا گیا کہ اگر مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو پمپ مالکان آپریشن بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے جس سے ملک میں ایندھن کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی کہ حکومت مثبت جواب دے گی بصورت دیگر کسی بھی بحران کی ذمہ داری پٹرولیم ڈویژن پر عائد ہوگی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع کے آغاز کے بعد سے حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمتوں میں 200 روپے سے زائد اور ہائی آکٹین ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 200 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔
دوسری جانب منگل کو پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان نے مارچ اور اپریل کے لیے زیادہ تر پیٹرول کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں توانائی کی فراہمی اور تیل و گیس کی عالمی منڈی میں صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
