اسلام آباد کے تھنک ٹینک پی آئی سی ایس ایس کی تفصیلی رپورٹ: سرحد پار حملوں نے دہشت گردوں کا نیٹ ورک مفلوج کر دیا

حملوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود شدت میں کمی، پاکستان عالمی دہشت گردی انڈیکس 2025 میں پہلے نمبر پر آگیا


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اسلام آباد کے تھنک ٹینک پی آئی سی ایس ایس کی تفصیلی رپورٹ: سرحد پار حملوں نے دہشت گردوں کا نیٹ ورک مفلوج کر دیا، حملوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود شدت میں کمی، پاکستان عالمی دہشت گردی انڈیکس 2025 میں پہلے نمبر پر آگیا۔
اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (PICSS) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، ‘آپریشن غضب للحق’ کے تحت افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر کی گئی کارروائیوں کے بعد مارچ میں پاکستان میں عسکریت پسندی سے متعلق اموات میں 35 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ فروری میں 506 اموات کے مقابلے میں مارچ میں یہ تعداد 331 رہی۔ رپورٹ کے مطابق، اگرچہ عسکریت پسندوں نے جوابی طور پر حملوں کی تعداد 83 سے بڑھا کر 146 کر دی، لیکن خودکش حملوں میں کمی (5 سے کم ہو کر صرف 1) اور سکیورٹی فورسز کی مستعدی کی وجہ سے ان کا اثر محدود رہا۔
بلوچستان: لڑائی سے متعلق اموات میں 34 فیصد کمی آئی (285 سے 189)۔ شہریوں کی اموات میں 79 فیصد کی غیر معمولی کمی دیکھی گئی۔
خیبر پختونخوا (ضم شدہ اضلاع): اموات کے گراف میں 42 فیصد واضح گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
پنجاب اور سندھ: مارچ کے دوران ان دونوں صوبوں سے کسی عسکریت پسند حملے کی اطلاع نہیں ملی، تاہم پنجاب میں آپریشن کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے۔
گلگت بلتستان: دیامر بھاشا ڈیم کے قریب چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔
اعداد و شمار کی دیگر تفصیلات: شہریوں پر حملوں میں 62 فیصد بہتری آئی، جبکہ سکیورٹی فورسز نے 41 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ تاہم، امن کمیٹی کے ارکان پر حملوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ میں ایک تشویشناک پہلو کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ ان حالیہ کامیابیوں کے باوجود، پاکستان 2025 کے عالمی دہشت گردی انڈیکس میں پہلی بار پہلے نمبر پر آگیا ہے۔ گزشتہ سال دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں 6 فیصد اضافہ (مجموعی طور پر 1,139 اموات) ریکارڈ کیا گیا، جو کہ پاکستان میں عسکریت پسندی سے ہونے والی اموات میں اضافے کا مسلسل چھٹا سال تھا۔

WhatsApp
Get Alert