جو ادارے خود کو بالاتر سمجھتے ہیں، وہ وزیراعظم کے نیچے بھی کام نہیں کرتے بلکہ اپنی من مرضیاں کرتے ہیں؛سہیل آفریدی

پشاور(قدرت روزنامہ)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ملاکنڈ ڈویژن میں سول سپریمیسی کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ مالاکنڈ ڈویژن میں سوائے باجوڑ کے تمام اضلاع حوالہ ہوئے ہیں اور ہم اس میں اپنی سول سپریمسی قائم کریں گے۔ اس سے تمام ادارے آئین اور قانون کے دائرے میں کام کریں گے۔ان کاکہناتھا کہ آئین اور قانون کے مطابق تمام ادارے میرے انڈر ہیں، لیکن جو اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں تو پھر وہ اپنی مرضی کرتے ہیں۔ میں یہی کہہ رہا ہوں کہ جو آئین اور قانون کے دائرہ کار سے نکل کر خود کو بالاتر سمجھتے ہیں، وہ وزیراعظم کے نیچے بھی کام نہیں کرتے بلکہ اپنی من مرضیاں کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کاکہناتھا کہ اس کے ساتھ ساتھ مالاکنڈ ڈویژن کے علاوہ ساؤتھ ریجن اور ضم اضلاع میں بھی ہم امن کے قیام کے لیے اپنا پلان بنا رہے ہیں۔ اگر تمام ادارے صدق دل سے کردار ادا کریں تو 100 دن کے اندر امن ممکن ہے، اور میں پر امید ہوں کہ اس پلان پر عمل کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی کاکہناتھا کہ کابینہ کے بغیر بھی جو ہماری باقی ڈیپارٹمنٹس ہیں،ان میں کارکردگی بہترین ہے اور تمام کام تیزی سے ہو رہے ہیں۔ برڈن کم کرنے اور بہترین ایڈمنسٹریشن کے لیے کابینہ بڑھانا ضروری ہے۔ اس میں کچھ ایشوز تھے جو کلیئر ہو چکے ہیں اور جلد ہی کابینہ کا اعلان ہو جائے گا۔
خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کے لیے ایک ہزار بلین پیکج کے حوالے سے سوال پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہناتھا کہ جو ہمارا بلین کا پیکج ہے مرجڈ اضلاع کے لیے تو اس میں میں آپ کو بتاتا چلوں کہ جو ہزار ارب روپے 10 سال کے لیے وفاقی حکومت نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا تو اس میں تقریباً 187 ارب روپے خیبر پختونخوا یا مرجڈ علاقوں کو ملے ہیں۔ اور 532 ارب روپے ان سات سالوں میں ہمارے بقایا ہیں، ابھی آٹھواں سال تقریباً پورا ہونے کو ہے۔ اس میں تقریباً 342 ارب روپے جو پہلے ہی مختلف اضلاع میں جاری پیکجز کے تحت چل رہے ہیں، وہاں پر ہم نے سٹارٹ کیا ہوا ہے۔ ابھی ہزار ارب کے لیے ہم نے اعلان کیا ہے روخانہ قبائل کے نام سے، اس میں جو ہمارے بقایا اے آئی پی میں رہتے ہیں وہ شامل ہوں گے۔ تقریباً ساڑھے چھ سو ارب روپے اس میں شامل ہوں گے، جبکہ تقریباً 300 ارب روپے صوبائی حصہ تھا جو کمٹ کیا گیا تھا۔ اس میں 50 ارب روپے اضافی لگیں گے، یہ 50 ارب روپے بھی صوبہ اپنے وسائل سے قبائلی اضلاع کو دے گا، اور یہ اس سال کی 26 اور 27 اے ڈی پی میں ریفلیکٹ ہو جائیں گے، ان شاء اللہ تعالی، اور اس پر کام شروع ہو جائے گا۔
