پشین اور موسیٰ خیل میں مہنگائی، گیس کی قلت اور لوڈشیڈنگ کے خلاف پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے احتجاجی مظاہرے

پشین / موسیٰ خیل (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی جانب سے پشین اور موسیٰ خیل کے بازاروں میں پیٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں، گیس کی بدترین قلت، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور ہوشربا مہنگائی کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ان مظاہروں میں تاجروں، مزدوروں، طلبہ اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے خبردار کیا کہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے، بصورتِ دیگر حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
پشین بازار میں احتجاجی مظاہرے اور جلسے کی قیادت ضلعی سینئر معاون سردار فیصل خان ترین نے کی، جبکہ مرکزی کمیٹی کے رکن سید فدا آغا، ضلعی ڈپٹی سیکریٹری سید شمس آغا اور ڈاکٹر حیات نے خطاب کیا۔ مقررین نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، گیس کی عدم دستیابی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں، کاروبار تباہی کے دہانے پر ہیں اور حکمرانوں کی نااہلی و بدانتظامی کے باعث غریب عوام شدید اذیت کا شکار ہیں۔ مقررین نے واضح کیا کہ اگر فوری طور پر قیمتوں میں کمی اور گیس و بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی نہ بنائی گئی، تو احتجاجی تحریک کو مزید شدت دے کر صوبہ بھر میں پھیلایا جائے گا۔
اسی سلسلے میں موسیٰ خیل بازار میں بھی ایک منظم اور بھرپور احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا، جس سے خطاب کرتے ہوئے پشتونخوا نیپ کے سیکریٹری کرک افغان نے کہا کہ مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے عوام کو ذہنی اور معاشی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اگر فوری عملی اقدامات نہ کیے گئے تو اسے سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مظاہروں کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جب تک مہنگائی، لوڈشیڈنگ، گیس بحران کا خاتمہ کر کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جاتی، ان کی احتجاجی تحریک اور عوامی حقوق کے حصول کی جدوجہد ہر جمہوری و آئینی فورم پر جاری رہے گی۔
