پاکستان میں ایرانی ریال کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ، 1 کروڑ ریال 10 ہزار روپے تک پہنچ گئے

کراچی(قدرت روزنامہ)پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں 10 ملین (1 کروڑ) ایرانی ریال 8 ہزار سے 10 ہزار روپے تک فروخت ہو رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 13 مئی 2026 کو کراچی، لاہور اور کوئٹہ کے کرنسی ڈیلرز نے بتایا کہ ایرانی ریال کی خرید و فروخت میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران نمایاں تیزی آئی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں انتہائی کم قدر رکھنے والا ایرانی ریال پاکستان میں اپنی اصل بین الاقوامی قیمت سے تین سے چار گنا زیادہ نرخ پر فروخت ہو رہا ہے۔
اوپن مارکیٹ ذرائع کے مطابق پاکستان میں 10 ملین ایرانی ریال کی قیمت 8 ہزار سے 10 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ عالمی سرکاری شرح تبادلہ کے مطابق یہی رقم تقریباً 2 ہزار 125 پاکستانی روپے بنتی ہے۔
کرنسی ماہرین کے مطابق ایرانی ریال کی طلب میں اضافے کی دو بڑی وجوہات سامنے آرہی ہیں۔ پہلی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ مقامی سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی مذاکرات اور ممکنہ طور پر پابندیوں میں نرمی کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے انہیں بھاری منافع حاصل ہونے کی توقع ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے راستے غیر رسمی تجارت میں ایرانی ریال کی نقد ضرورت بھی اس کی مقامی طلب کو بڑھا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات، خوراک اور دیگر اشیاء کی سرحدی تجارت میں ایرانی کرنسی کا استعمال بڑھنے سے اس کی قیمت کو سہارا مل رہا ہے۔
ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی ریال کی قیمت میں حالیہ اضافہ بنیادی طور پر مقامی طلب اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہے۔ عالمی کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ یا خطے کی سیاسی صورتحال میں اچانک تبدیلی چھوٹے سرمایہ کاروں کیلئے بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
اقتصادی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بغیر تحقیق اور مکمل معلومات کے ایرانی ریال میں سرمایہ کاری سے گریز کریں اور محتاط انداز میں فیصلے کریں۔
