ڈیجیٹل جنگ جاری، نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی: جمال رئیسانی

کوئٹہ(قدرت روزنامہ) پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے، جس میں بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کوئٹہ میں صوبائی وزراء علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور موجودہ دور کی جنگ بڑی حد تک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہو چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں مختلف موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے رابطے، منصوبہ بندی اور بھرتیوں کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں، آج دشمن صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ سوشل میڈیا مہمات اور ٹرینڈز کے ذریعے بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ بلوچستان کے نوجوان شدت پسندی یا پہاڑوں کا رخ کریں، بلکہ انہیں مثبت سرگرمیوں اور ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں، بعض کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کو بھی شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو ان معاملات کا جائزہ لینا چاہیے، بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کی اجازت نہیں دی جائے گی اور صوبے کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی ہر کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔
جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں جاتی تھیں، شہناز بلوچ کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا، تاہم بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کررہی ہیں۔
ڈاکٹر صبیحہ کا بھائی کالعدم تنظیم کا حصہ ہے، تاہم بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں، بلوچستان کے نام علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
