پی ٹی آئی رہنماء اسد قیصر کی وزیرِاعظم سے ملاقات، خیبر پختونخوا کے بقایاجات کی ادائیگی، فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس چھوٹ کا مطالبہ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)سابق اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر کی قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف کی اپوزیشن بینچوں پر آمد کے موقع پر ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں صوبے کے حقوق، فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس چھوٹ کے معاملے پر بات ہوئی۔ رہنماء پی ٹی آئی اسد قیصر کے ایکس کے مطابق صوابی کے تمباکو کاشتکاروں کو درپیش مسائل، خصوصاً فی کلو 390 روپے کے نئے ٹیکس کے خاتمے، خیبر پختونخوا کے بقایاجات کی ادائیگی، اور پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث صوبے میں کاروبار نہ ہونے کے برابر رہ جانے کے مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔
عمران خان، ان کی اہلیہ اور پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ جیل میں روا رکھے جانے والے ناروا سلوک، ملاقاتوں پر پابندی، ان کے بنیادی انسانی و قانونی حقوق کی پامالی، اور اس کے علاوہ میثاقِ جمہوریت پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔
جس کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، سینیٹر رانا ثنا اللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام سے پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیر خزانہ کے چیمبر میں ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں وزیر خزانہ سے فاٹا میں ٹیکس کے نفاذ، تمباکو پر ٹیکس سمیت اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اپنی ٹیم کے ساتھ مشاورت کے بعد ٹیکس چھوٹ پر فیصلہ کریں گے۔ اسد قیصر نے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور ہم نے ہمیشہ پارلیمان کو مضبوط کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے اور جہاں بھی ملکی مفاد کی بات ہو، ہم نے ہمیشہ اپنے سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ملکی مفاد کو ترجیح دی ہے۔
ہم نے فاٹا اور پاٹا کے ٹیکسز کے حوالے سے بات کی۔ ہمارے ساتھ وہ تمام اراکینِ اسمبلی بھی موجود تھے جو فاٹا اور پاٹا سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس وقت پہلے ہی افغانستان کے ساتھ کاروبار بند ہے اور معاشی سرگرمیاں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی نیا ٹیکس عائد کیا جائے گا تو وہاں کی بچی کھچی معیشت بھی متاثر ہو جائے گی۔ حکومت نے کہا کہ وہ اس معاملے پر غور کر رہی ہے اور مشاورت کے بعد ہمیں آگاہ کر دے گی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو علاج کا حق دیا جائے انکو ہسپتال منتقل کیا جائے ہمارا مطالبہ قانونی، آئینی اور رولز کے مُطابق ہے۔
