نواب اکبر بگٹی شہید پر انوارالحق کاکڑ کا بیان تاریخی حقائق کے منافی اور افسوسناک ہے، جمہوری وطن پارٹی کا شدید ردعمل

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی جانب سے نواب اکبر خان بگٹی شہید کے حوالے سے دیے گئے ریمارکس پر شدید تشویش، افسوس اور مذمت کا اظہار کرتے ہیں۔ نواب اکبر خان بگٹی شہید بلوچستان کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہیں جسے نہ تو فراموش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی بیان کے ذریعے ان کی جدوجہد، قربانیوں اور عوامی خدمات کو کم کیا جا سکتا ہے۔نواب اکبر خان بگٹی شہید نے اپنی طویل سیاسی زندگی میں بلوچستان اور بلوچ عوام کے حقوق، وسائل اور شناخت کے لیے آواز بلند کی۔ وہ ایک جمہوری اور عوامی سوچ رکھنے والے رہنما تھے جنہوں نے آئینی، سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے بلوچستان کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کیا۔ 85 سال کی عمر میں بھی انہوں نے اپنے اصولوں، نظریات اور عوامی حقوق کے مقف سے دستبردار ہونے کے بجائے قربانی کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی بلوچستان کے عوام انہیں ایک بہادر، مدبر اور شہید رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں۔انوارالحق کاکڑ کا بیان نہ صرف تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ بلوچستان کے عوام کے جذبات کو بھی شدید مجروح کرتا ہے۔ ایک ایسے رہنما کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ انداز اختیار کرنا جس نے اپنی پوری زندگی عوامی حقوق اور سیاسی جدوجہد کے لیے وقف کی ہو، انتہائی افسوسناک ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن تاریخ کے کرداروں کے بارے میں گفتگو کرتے وقت ذمہ داری، برداشت اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ ضروری ہوتا ہے۔نواب اکبر خان بگٹی شہید نے بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ انہوں نے اپنے عوام کے حقوق، صوبے کے وسائل اور بلوچستان کے مستقبل کے لیے آواز بلند کی اور اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اپنے مقف پر قائم رہے۔ ان کی جدوجہد، استقامت اور قربانی نے انہیں بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نمایاں مقام عطا کیا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے مسائل کا حل تاریخی شخصیات کی قربانیوں کو متنازع بنانے میں نہیں بلکہ عوامی حقوق، آئینی انصاف، سیاسی مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دینے میں ہے۔ نواب اکبر خان بگٹی شہید کی قربانیوں اور خدمات کو بلوچستان کے عوام کبھی فراموش نہیں کریں گے۔جمہوری وطن پارٹی نواب اکبر خان بگٹی شہید کے نظریات، سیاسی جدوجہد اور عوامی حقوق کے لیے ان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ عوامی حقوق، جمہوری اقدار اور انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
