بلوچستان کے 58 فیصد بچے تعلیم سے محروم، اسلام آباد کے حکمران صوبے کو مالِ غنیمت تصور کرتے ہیں، مولانا ہدایت الرحمن


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) حق دو تحریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمن نے بجٹ بحث کے دوران صوبائی سیکرٹریز کی عدم موجودگی پر اعتراض کیا اور حبیب جالب کا شعر بھی پڑھا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کو بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ گوادر کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے 313 اسکول فعال ہیں تاہم 54 مراکز صحت میں سے نئے قائم ہونے والے 10 مراکز صحت بند پڑے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے 58 فیصد بچے تعلیم سے محروم ہیں، 11 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور ایشیا میں دوران زچگی خواتین کی سب سے زیادہ اموات بلوچستان میں ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے 40 فیصد عوام بجلی اور 83 فیصد گیس سے محروم ہیں جبکہ 65 لاکھ نوجوانوں کے لیے بجٹ میں صرف 5 ہزار ملازمتیں رکھی گئی ہیں۔مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ اسلام آباد کے حکمران بلوچستان کو صوبہ نہیں بلکہ کالونی سمجھتے ہیں، یہاں کے وسائل کو مالِ غنیمت تصور کرتے ہیں اور سی پیک کے نام پر چیک پوسٹوں کے سوا کچھ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پٹرول کی بچت کے نام پر ملنے والی رقم نہیں چاہیے، “یہ پیسے ان کے منہ پر مارو”۔ انہوں نے اسلام آباد کے حکمرانوں کے بائیکاٹ کی تجویز بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم پی ایز کو گاڑیاں نہیں ملتیں جبکہ چھوٹے افسران کو سرکاری گاڑیاں دی جاتی ہیں، بلوچستان کی حالت خراب ہے مگر آتش بازی پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمران امریکہ اور ایران کے درمیان صلح کرا سکتے ہیں تو بلوچستان کے مسائل بھی حل کرا سکتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert