لورالائی: بڑھتے ہوئے اخراجات اور ولور کے خلاف “آسان شادی، مضبوط معاشرہ” کے عنوان سے بڑا عوامی جرگہ، اجتماعی شادیوں کے فروغ کا فیصلہ

لورالائی (قدرت روزنامہ) سماجی و معاشی اصلاحات کے سلسلے میں میونسپل کمیٹی لورالائی کے ہال میںنہایت اہم اور بنیادی ضروری موضوع “آسان شادی، مضبوط معاشرہ” کے عنوان سے ایک اہم نمائندہ عوامی جرگہ منعقد ہوا،جسکے میزبان لورالائی کے سینئر صحافی حاجی پیر محمد کاکڑ تھے سٹیج سیکرٹری کے فرائض پروفیسر کریم عامر نے سر انجام انجام دیئے جرگہ میں انتہائی اہم و معنی خیز گفتگو کرتے ہوئے مختلف علاقوں لورالائی کے تمام طبقات ، کراچی، کوئٹہ ، ژوب ، میختر ، دکی ، نانا صاحب مرغہ کبزئی اور دیگر علاقوں سے معززین نے شرکت کی جس میں سینئر سیاسی رہنما و اسکالر ڈائریکٹر قرآن اکیڈمی حکومت بلوچستان عبدالمتین اخونزادہ نے خصوصی خطاب پیش کیا جرگے میں علاقائی بزرگ شخصیت سابق تحصیل ناظم ملک نوراللہ شبوزئی ،میختر سے سردار امان اللہ خان ہمزازئی ملک عصمت کدیزئی ، دکی سے قبائلی رہنما سردار اکبر خان کمالخیل ناصر ، ملک امان اللہ ناصر ، سردار فاروق خان لونی ، کمانڈر شاہ محمد زخپیل ، اعظم جان غلزئی ، حاجی وزیر خان کبزئی ، عزیز اللہ کبزئی ، جماعت اسلامی لورالائی کے ضلعی امیر عبد الحمید ناصر مفتی شفیع الدین ، ملک اختر گل حمزہ زئی ،نعمت اللہ جلال زئی ،رشید اکمل ، سلام کدیرئی حافظ سراج الدین ملک خیر اللہ توخی عطااللہ کاکڑ سردار جعفر اتمانخیل ،صحافی ملک امانت حسین ککے زئی ، حاجی احسان آللہ ، نعت اللہ ناصر شبیر احمد ھوتک صوبہ خان غریب یار ولی محمد درمان لونی ملک تاج الدین کدیزئی خواجہ خرم شہزاد عثمان جلال زئی صابر کدیزئی فرید اوتمان خیل لونگ خان مردان زئی اور دیگر علما کرام، قبائلی مشران، سماجی کارکنان اور سول سوسائٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
عبدالمتین اخونزادہ نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی میں حالات و زمانے کے تغیرات اور ہنر و اسکلز کے ساتھ ساتھ خوراک، لباس، معاشرت اور تمدن و نفسیاتی رویوں کی تبدیلی کی نتیجے میں ضروری ہے کہ رسم و رواج اور مذہبی و قبائلی تعبیرات بدلنے کا راستہ ہموار کیا جائے دین اسلام کے معتبر روایات و اصولوں کی روشنی میں خواتین کی عظمت و رفعت از سر نو فعالیت کی ضرورت ہیں خواتین و بچیوں کے بنیادی انسانی حقوق اور شخصیت و کردار کی تشکیل و تعبیر نو کے لئے ضروری ہے کہ مرد و عورت کے کردار و عمل کو از سر نو ڈیفائن کیا جائے تاکہ عورت کی ذات سے انسانی سوسائٹی راحت و ہنر دونوں یکساں مواقع پیدا فرمائے عبدالمتین اخونزادہ نے کہا کہ عورت کی ذات کے لئے معاشی خود مختاری ضروری ہے اور جائیداد کے اندر اس کے حصے کو عملا قانون سازی کے باوجود نہ دینا معاشرتی ڈھٹائی ہے جسے ایڈریس کرنے کی کوششیں درکار ہیں جرگے میں اجتماعی شادیوں کے پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ولور، جہیز اور شادیوں میں غیر ضروری و فضول اخراجات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کے اظہار کے بجائے عملی اقدامات اٹھانے کا راستہ ہموار کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو اور معاشرے میں خوشحالی و استحکام پیدا ہو۔
شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ولور اور دیگر غیر ضروری رسم و رواج میں اعتدال لانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔آسان شادی اپنائیں، نوجوانوں کا مستقبل سنواریں، مضبوط معاشرہ بنائیں۔ آخر میں ایک جرگہ کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ولور کم سے کم کیا جائے شادیوں کھانے پینے کے اخراجات کم سے کم کئے جائیں بلکہ چائے بسکٹ کو روایات میں شامل کیا جائے اس موقع پر ممتاز قبائلی شخصیت سردار اکبر کمال خیل نے اعلان کیا کہ یہاں اجتماعی شادیوں کو فروغ دیا جائے جس کے اخراجات میں میرا بھرپور تعاون ہوگا آخر جرگہ کے تمام شرکا نے سینر صحافی پیرمحمد کاکڑ کو ایک اہم ایشو ولور / اور جہیز پر بڑا کامیاب جرگہ منعقد کرنے پر ان کو خراج تحسین پیش کیاگیا
