بلوچستان کا مسئلہ سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے، نئے عمرانی معاہدے کے تحت امن کے قیام اور مذاکرات کی ضرورت ہے، میر اسد بلوچ


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) بی این پی عوامی کے رکن میر اسد بلوچ نے کہا کہ 2006 سے بلوچستان کے حالات خراب ہیں۔ افغانستان اور عراق میں بھی مسائل تھے مگر مذاکرات سے حل ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ محض ایک سال کے لیے رکی ہے، اس حوالے سے کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کو نظریہ ضرورت کے تحت چلایا جا رہا ہے اور موجودہ بجٹ میں آئینی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر پانچ سال بعد این ایف سی ایوارڈ ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک آئی ایم ایف کے بغیر بجٹ نہیں بنا سکتا، چاغی، واشک اور دیگر معدنی علاقوں میں زمینوں کی الاٹمنٹ ہو چکی ہے جبکہ ڈپٹی کمشنروں کو فنڈز دے کر اسمبلی پر عدم اعتماد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی اے فنڈز کے حوالے سے یہ تاثر غلط ہے کہ یہ رقم اراکین کی جیبوں میں جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ اسلامی تعلیمات سے حل ہوسکتا ہے اور ان سے سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے نئے عمرانی معاہدے کے تحت امن کے قیام اور مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

WhatsApp
Get Alert