سچ بولنے کی سزا کے طور پر مجھے اسمبلی سے دور کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں، میر اسد بلوچ

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سربراہ و رکن صوبائی اسمبلی میر اسد بلوچ بلوچستان اسمبلی میں بجٹ اجلاس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کہنا کہ صوبے کی ہر چیز ٹھیک ہے جو اپنے ساتھ زیادتی ہے ہمارے حکمرانوں نے ہر دور میں آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دی ہماری کون سے کمزوری ہے کہ ہم آئی ایم ایف کو نہیں چھوڑ سکتے ہیں وفاقی وزیرخزانہ کہتے ہیں کہ ہم آئی ایم ایف کے بغیربجٹ نہیں بناسکتے ہیں یہاں پر رہنے والوں نے ہمیشہ اپنے حقوق کے لئے آئینی اور قانونی جہدوجہد کی ہے‘ انہوں نے کہاکہ ریاست کی زمہ داری ہے کہ عوام کو ان کے حقوق فراہم کرے دنیا میں جب حالات خراب ہوئے تو گفت شنید سے معاملاتِ حل کئے گئے اس وقت ملک میں آئین معطل ہے ‘حالات یہاں تک خراب ہو گئے کہ میرے علاقے میں روزانہ کی بنیاد پر دو سے تین لاشیں مل رہی ہے سچ بولنا کسی کو گہوارہ نہیں ہے آج جو کچھ بول رہا ہو ں یہاں بیٹھے اکثریت کو پسند نہیں ہے میرے بولنے کے باعث آنے والے الیکشن میں میرا سیٹ کسی اور کے حوالے کرکے مجھے بولنے کی سزادیکر اسمبلی سے باہر کریں گے انہوںنے کہاکہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ماضی کو بھول کر جہاں غلطی ہو چاہئے ریاست کی جانب سے ہو عوام کی جانب سے ہو یا پارلیمنٹ سے اس پر نظر ثانی کرکے ایک ساتھ ہو جائے کیونکہ یہ صوبہ ہم سب کا مشترکہ ہے اس صوبے کو امن وامان دینا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے لیکن ہم نے بھی ساتھ دینا ہے بشرط کہ ہم یہ تسلیم اور اس پر راضی ہو جائیں گے جہاں غلطی ہے اس کو تسلیم کیا جائے بلکہ ہم نے سچ کا راستہ اپنانا ہوگا آج اسمبلی فلور پر جو میں بول رہا ہوں وہ اکثریت ممبران کو پسند نہیں ہے اور سپیکر صاحب کی جانب سے بار بار مجھے یہ پیغام مل رہا ہے کہ تقریر مختصر کریں مجھے سپیکر کی مجبوری بھی معلوم ہے کہ وہ کیوں مجھے خاموش کررہے ہیں اور ان کے اصل مقاصد کیا ہے میں آج اسمبلی فلورپر برملا کہتا ہوں کہ میرے بولنا ریاستی اداروں کو پسند نہیں ہے اور آنے والے الیکشن میں مجھے اسمبلی سے دور کرنے کے لیے ابھی سے پالیسی بنائی ہے او ر آنے والے الیکشن میں اسمبلی کا حصہ نہیں رہوں گا لیکن میں اپنے عوام اور ووٹروں سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ سچ بولوں گا اور عوام کے ساتھ رہوں گا۔
