ایف بی آر نے قطر میں مقیم پاکستانی کا بینک اکاؤنٹ خالی کردیا، جائیداد ضبط کرنے کی دھمکی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)قطر میں مقیم سینئر پاکستانی بینکر ارسلان آدم کے بینک اکاؤنٹ سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے رقم نکالنے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ایک باقاعدہ شکایتی خط لکھ کر مداخلت کی اپیل کی ہے۔ صحافی وقاص عظیم کے مطابق ارسلان آدم کا مؤقف ہے کہ 23 جون 2026ء کو پاکستان میں موجود ان کے بینک نے مطلع کیا کہ ایف بی آر نے انہیں ٹیکس ڈیفالٹر قرار دے کر رقم فوری منتقل کرنے کا نوٹس دیا ہے، اس کے اگلے ہی دن 24 جون کو یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ نے ان کے اکاؤنٹ میں موجود تمام رقم جو کہ تقریباً 70 لاکھ روپے بنتی ہے، ایف بی آر کو منتقل کر دی۔
ارسلان آدم نے خط میں بتایا کہ وہ 2002ء سے تقریباً 24 سال سے بیرونِ ملک مقیم ہیں اور ڈوئچے بینک، بینک آف امریکہ، کے پی ایم جی، اور اے بی این ایمرو جیسے عالمی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر کام کر چکے ہیں، اس وقت وہ دوحہ بینک قطر میں ‘ہیڈ آف آپریشنز’ کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں، 2016/17ء سے باقاعدگی سے ٹیکس گوشوارے جمع کرا رہے ہیں، ایف بی آر کی جانب سے سرمایہ کاری کے ذرائع پوچھنے پر انہوں نے غیر ملکی ملازمت اور پاکستان میں بینکنگ چینلز کے ذریعے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر کے تمام ثبوت پیش کیے، لیکن ایف بی آر نے انہیں ماننے سے انکار کر دیا، اکاؤنٹ خالی کرنے کے بعد اب ایف بی آر جائیداد ضبط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
قطر میں مقیم پاکستانی شہری ارسلان آدم نے ایف بی آر کی جانب سے 2 کروڑ 26 لاکھ روپے نکالنے پر وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کو خط لکھ دیا خط میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کو بیرون ملک آمدن اور ملازمت کے ثبوت فراہم کیے مگر ایف بی آر نے ماننے سے انکار کردیا خط کو غور سے پڑھیں… pic.twitter.com/5SHGrZGf1R
— Waqas Azeem (@Waqas_Azeem) June 25, 2026
ارسلان آدم نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ ایف بی آر کا یہ رویہ ملکی امیج پر ایک کالا دھبہ ہے جس سے دیگر سمندر پار شہریوں کا بھی پاکستان میں سرمایہ کاری پر اعتماد متزلزل ہوگا، لہٰذا معاملے کی تحقیقات کروا کر رقم کا فل ریفنڈ دلایا جائے۔
دوسری جانب ایف بی آر کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہری ارسلان آدم کو قانون کے مطابق ٹیکس ڈیفالٹ کا نوٹس جاری کیا گیا تھا، ارسلان آدم پر 2 کروڑ 26 لاکھ 26 ہزار 450 روپے کا ٹیکس واجب الادا ہے، اور یہ کارروائی ٹیکس کی عدم ادائیگی پر قانون کے مطابق عمل میں لائی گئی ہے۔
