آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر نامعلوم سمت سے حملہ، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کا دعویٰ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس سے جہاز کے برج (کنٹرول روم) کو نقصان پہنچا، تاہم عملے کے تمام ارکان محفوظ رہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو ایک مال بردار جہاز پر حملے کے بعد پیش آیا، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ حالیہ واقعات کے بعد بین الاقوامی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے قائم جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے بحری سیکیورٹی خطرے کی سطح مزید بلند کر دی ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق حملے کے نتیجے میں کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یہ ادارہ برطانیہ کا فوجی ادارہ ہے جو عالمی بحری راستوں کی نگرانی اور بحری سیکیورٹی سے متعلق اطلاعات جاری کرتا ہے۔
U.S. strikes Iran in response to an attack on a commercial ship moving through the Strait of Hormuz, CENTCOM confirms.
"The unwarranted aggression against commercial shipping by Iranian forces clearly violated the ceasefire."
"The U.S. military remains present and vigilant to… pic.twitter.com/4ZDaE0yBVX
— Fox News (@FoxNews) June 27, 2026
اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساحلی علاقوں پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوج سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کا مؤقف ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کو جواز بنا کر ایران کے ساحلی علاقوں پر فضائی حملے کیے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی کہ امریکی افواج نے 26 جون کو ایران میں میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے والی تنصیبات اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔ سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائی 25 جون کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کے جواب میں کی گئی۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 26, 2026
سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی پر بلااشتعال جارحیت جنگ بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے۔ امریکی فوج خطے میں موجود ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق تازہ حملوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حالیہ حملوں اور سوئٹزرلینڈ میں طے پانے والے عبوری امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے رات گئے ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی افواج سے منسلک اہداف پر جوابی حملے کیے۔ دونوں ممالک کا مؤقف ہے کہ دوسرا فریق عبوری معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔
The U.S. attacked Iran in the middle of negotiations once again.
The failed U.S. President has shown he has no commitment to the principles of negotiation or a ceasefire.
This reckless violation of the ceasefire will, as always, lead to retreat and regret on their part.
The…
— ابراهیم عزیزی (@Ebrahimazizi33) June 26, 2026
تاہم ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے ان بحری جہازوں کی جانب انتباہی فائرنگ کی جو ایران کی منظور شدہ بحری گزرگاہ استعمال نہیں کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اس کے بعد متعدد جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی اجازت حاصل کرنا شروع کر دی، تاہم تہران نے کسی مخصوص تجارتی جہاز پر حملے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
دوسری جانب بحرین نے اپنے علاقے پر ایرانی ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا، جب کہ ایرانی حکام نے الزام عائد کیا کہ امریکا لبنان میں جنگ بندی برقرار رکھنے کے وعدے پر عمل کرنے میں ناکام رہا، جس سے معاہدہ متاثر ہوا۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی کارروائی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا۔
انھوں نے یہ بیان ہفتے کی صبح اس وقت جاری کیا جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے 26 جون کو ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے والی تنصیبات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
بدون تردید ایران بیشتر از هر طرف دیگری، دغدغه امنیت جمعی منطقه را دارد. اینکه شورای همکاری خلیج فارس، تصور کند راه حل رفع این دغدغه، پناه بردن به بزرگترین ناقض امنیت است، خود نقض غرض است و طنزی تلخ و نشانهای مأیوسکننده از عدم درسآموزی از تجربههای تلخ اخیر.
باید از همسایگان…
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) June 26, 2026
ابراہیم عزیزی نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا۔ ان کے بقول ناکام امریکی صدر نے ثابت کر دیا ہے کہ انھیں نہ تو مذاکرات کے اصولوں کی کوئی پروا ہے اور نہ ہی جنگ بندی کی پاسداری کا کوئی احساس۔ جنگ بندی کی یہ لاپرواہ خلاف ورزی، ہمیشہ کی طرح، بالآخر ان کے لیے پسپائی اور ندامت کا باعث بنے گی۔ الزام تراشی کا کھیل اب مزید نہیں چلے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کی جانب سے بھی جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی حملے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی ہیں، امریکا نے ایرانی ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی افواج نے امریکی حملوں کے ردعمل میں امریکا سے منسلک اہداف پردفاعی کارروائیاں کیں، خلیج کے جنوبی ساحل پر واقع ممالک اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
Iran signed a ceasefire agreement. We have honored it. If they have disagreements about how the MOU is being applied, they can pick up the phone.
But violence will be met with violence. https://t.co/VWnBS1PWaV
— JD Vance (@JDVance) June 26, 2026
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا نے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کی ہے۔ ان کے بقول اگر ایران کو مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریقۂ کار سے متعلق کوئی اعتراض ہے تو وہ براہِ راست رابطہ کرے، تاہم تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکا نے ایران پر فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق 25 جون کو ایران نے کمرشل جہاز پر ڈرون سے حملہ کیا، جس کے بعد امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون اسٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔
