بلوچستان کو مقتل گاہ بنا دیا گیا، اربوں کے سیکیورٹی بجٹ کے باوجود عوام غیر محفوظ ہیں، مولانا ہدایت الرحمن

گوادر(ڈیلی قدرت کوئٹہ)امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے گوادر اور کراچی میں مختلف وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو مقتل گاہ اور نو گو ایریا بنا کر خوف و دہشت کا ماحول قائم کر دیا گیا ہے، جہاں روزانہ دل دہلا دینے والے قتل و غارت گری کے بڑے واقعات ہو رہے ہیں۔ اب صوبے میں نہ تاجر محفوظ ہیں، نہ سیاح، مسافر، کوئلے کے ٹرک، مسافر کوچز، طلبا، سیاسی ورکرز اور نہ ہی تبلیغی جماعت والے محفوظ ہیں۔ ان تمام سنگین حالات کی تمام تر ذمہ داری سیکیورٹی فورسز، حکومت اور ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کب تک حقیقت کے برخلاف ‘سب ٹھیک ہے’ کی گردان الاپ کر، مذمتی بیانات اور جھوٹے وعدوں پر عوام کو ورغلایا جاتا رہے گا؟مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فارم 47 کی مرضی کی حکومت ہونے، انصاف فراہم کرنے والے اداروں اور میڈیا کو مکمل کنٹرول میں رکھنے کے باوجود عوام کی جان و مال محفوظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خون آلود بلوچستان کی بدامنی کی اس پریشان کن صورتحال میں بھی اسلام آباد کے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، ایسے میں بلوچستان کے عوام امن کس سے مانگیں اور گلہ کس سے کریں؟ صوبے میں ایک ہی دن میں تین بڑے سانحات رونما ہوئے جن میں تاجر اور سیاح قتل ہوئے جبکہ تبلیغی جماعت پر فائرنگ کی گئی، لیکن کسی کا قاتل منظرِ عام پر نہیں آیا۔ یہ وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہوئے، جبکہ نہ جانے کتنے ہی ایسے واقعات ہیں جو میڈیا پر رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔انہوں نے بجٹ اور سیکیورٹی اخراجات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں 90 ارب روپے سے زیادہ کی خطیر رقم عوام کی حفاظت کے لیے مختص ہے، کوئٹہ میں ہزاروں سیکیورٹی کیمرے لگے ہیں، اور سیف سٹی پر اربوں روپے خرچ ہوئے ہیں، لیکن ہر واقعے کے بعد عوام کو تحفظ دینے کے ذمہ دار خود صرف مذمت، دعوے اور وعدے کرتے نظر آتے ہیں، عملی تحفظ فراہم نہیں کرتے۔ آخر بلوچستان میں یہ ہو کیا رہا ہے اور کب تک بے گناہ لوگوں کا خون بہتا رہے گا، بچے یتیم اور بہنیں بیوہ ہوتی رہیں گی؟ انہوں نے واضح کیا کہ زور زبردستی، طاقت کا استعمال، بے عمل دعوے اور ہر واقعے کے بعد شدید مذمت مسائل کا حل نہیں، اداروں اور حکمرانوں کو اہل بلوچستان کو ہر صورت امن، حقوق اور روزگار دینا ہوگا۔ جماعت اسلامی ہر ظلم اور ظالم کے خلاف مظلوم عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
