بلوچستان میں شدید گرمی کی لہر برقرار، محکمہ موسمیات کا الرٹ، صبح 11 سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنے کی ہدایت

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر اضلاع اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں جہاں محکمہ موسمیات نے آئندہ ایک ہفتے تک ہیٹ ویو برقرار رہنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سبی، ڈیرہ مراد جمالی، جعفرآباد، نصیرآباد، گوادر، لسبیلہ، حب، خضدار، کوہلو، بارکھان اور دیگر گرم علاقوں کے ساتھ کوئٹہ میں بھی درجہ حرارت معمول سے کئی ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک سورج کی تپش میں مزید 6 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے، جس کے باعث شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔شدید گرمی کے باعث صوبے بھر کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن، لو بلڈ پریشر، بے ہوشی، چکر آنے، قے، اسہال اور معدے و آنتوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے معمولی سی غفلت بھی سنگین طبی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر حسن طاہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زیادہ تر مریض ایسے ہوتے ہیں جو طویل وقت تک دھوپ میں کام کرتے ہیں یا مناسب مقدار میں پانی استعمال نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ بزرگ افراد، کم سن بچے، حاملہ خواتین، دل، شوگر، گردوں اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، لہذا ان طبقات کو خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر حسن طاہر کے مطابق جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہیٹ ایکزاسشن اور ہیٹ اسٹروک جیسی خطرناک پیچیدگیوں کو جنم دیتی ہے، جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں، جبکہ مجبوری کی صورت میں سر کو ٹوپی، کیپ یا چھتری سے ڈھانپیں، ہلکے رنگ کے سوتی کپڑے پہنیں اور اپنے ساتھ پانی کی بوتل ضرور رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ مناسب مقدار میں پانی، او آر ایس، لیموں پانی، تازہ جوس اور دیگر صحت بخش مشروبات کا استعمال جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ دھوپ میں کام کرنے والے مزدور، ٹریفک پولیس اہلکار، ڈرائیورز اور دیگر محنت کش افراد وقفے وقفے سے سائے میں آرام کریں اور غیر ضروری جسمانی مشقت سے گریز کریں۔ماہرین صحت نے والدین پر بھی زور دیا کہ وہ بچوں کو شدید دھوپ میں کھیلنے سے روکیں اور انہیں ٹھنڈی اور ہوادار جگہوں پر رکھیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شدید گرمی میں کھانے پینے کی اشیا جلد خراب ہونے کے باعث فوڈ پوائزننگ، اسہال اور معدے کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، اس لیے شہری کھلی، باسی اور غیر معیاری اشیائے خور و نوش سے پرہیز کریں، تازہ اور صاف غذا استعمال کریں، پھل اور سبزیاں اچھی طرح دھو کر کھائیں اور ہمیشہ صاف اور محفوظ پانی استعمال کریں۔ڈاکٹر حسن طاہر نے کہا کہ اگر کسی شخص میں شدید چکر آنا، بے ہوشی، تیز بخار، جسم کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ جانا، جلد کا خشک اور گرم ہو جانا، شدید کمزوری، الجھن یا سانس لینے میں دشواری جیسی علامات ظاہر ہوں تو اسے فوری طور پر سایہ دار اور ٹھنڈی جگہ منتقل کیا جائے، اضافی کپڑے ڈھیلے کیے جائیں، جسم پر ٹھنڈا پانی ڈالا جائے یا گیلی پٹیاں رکھی جائیں اور بغیر کسی تاخیر کے قریبی ہسپتال منتقل کیا جائے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ موجودہ شدید گرمی کے دوران اپنی روزمرہ سرگرمیوں کو موسم کے مطابق ترتیب دیں، پانی کا استعمال معمول سے زیادہ کریں، کسی بھی طبی علامت کو نظر انداز نہ کریں اور بروقت مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ماہرین نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صحت کے ساتھ ساتھ اپنے اہل خانہ، بزرگوں اور بچوں کا بھی خصوصی خیال رکھیں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے ہیٹ اسٹروک اور دیگر موسمی بیماریوں سے خود کو محفوظ بنائیں۔
