ایم کیو ایم 3 دن کا الٹی میٹم دیکر حکومت سے علیحدہ ہوجائے! محمود مولوی کا فاروق ستار کی پریس کانفرنس پر ردعمل

کراچی(قدرت روزنامہ)کراچی کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر ہلچل دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں سابق رکن قومی اسمبلی اور نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رکن محمود مولوی نے ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کی حالیہ پریس کانفرنس پر ردعمل دیا ہے۔
محمود مولوی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایم کیو ایم پاکستان واقعی کراچی کے عوام سے محبت رکھتی ہے تو اسے وفاقی حکومت کو تین دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے فوری طور پر حکومت سے علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے۔
سابق رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کو حکومت چھوڑ کر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کے لیے کراچی کے عوام، کرسیوں اور وزارتوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت شہر قائد میں حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے والی کوئی موثر سیاسی جماعت موجود نہیں جس کے باعث شہریوں کو مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ممبر نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی محمود مولوی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھ کر کراچی کے عوام کے حقوق کے لیے زیادہ مضبوط اور موثر آواز بلند کرنی چاہیے۔
یاد رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنی پریس کانفرنس میں سڑکوں پر آنے اور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے جو صوبائی اور وفاقی حکومت کے خلاف ہوگی۔
فاروق ستار نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت اگر مداخلت سے بچنا چاہتی ہے تو فوری اقدامات کرے جبکہ انہوں نے وزیراعظم سے کراچی آنے کا مطالبہ بھی کیا تھا تاکہ صورتحال مزید بگڑنے سے پہلے مسائل حل کیے جا سکیں۔
انہوں نے صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدار بنانے پر بھی زور دیا تھا اور گیس و بجلی کے بحران کے حل کو بنیادی مطالبات میں شامل قرار دیا تھا۔
ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ اگر ان کے چار بنیادی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ان کے 22 ارکان قومی اسمبلی اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے پر غور کر سکتے ہیں۔
