زیارت حملہ مجرمانہ غفلت اور نااہلی کا نتیجہ ہے؛ 9اہلکاروں کی شہادت پر افسوس، 20لاپتہ اہلکاروں کو فوری بازیاب کرایا جائے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری مذمتی بیان میں زیارت کے علاقے کچھ مانگی فیز تھری میں دہشت گردوں کے وحشیانہ حملے میں 9 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کو ریاستی نااہلی، حکومتی بے حسی، انتظامی غفلت اور متعلقہ سکیورٹی اداروں کی ناکامی کا المناک نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں اطلاعات کے مطابق 20 کے قریب لاپتہ پولیس اہلکاروں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو خطرناک اور حساس علاقے میں جدید اسلحہ، بکتر بند گاڑیوں، مؤثر مواصلاتی نظام اور بروقت فضائی و زمینی معاونت کے بغیر بھیجنا کسی حادثاتی غفلت کا نہیں بلکہ مجرمانہ لاپرواہی اور ناقص منصوبہ بندی کا ثبوت ہے۔ اہلکار کئی گھنٹوں تک دہشت گردوں کے محاصرے میں رہے، اس دوران پارٹی رہنماؤں اور مقامی معتبرین نے بار بار اعلیٰ حکام، سول و عسکری انتظامیہ کو صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا اور محصور اہلکاروں کو بچانے کی اپیل کی، مگر مجرمانہ خاموشی اور بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان انتباہات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکتا تھا۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے ڈپٹی کمشنر زیارت، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی اعلیٰ قیادت کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب اہلکار گھنٹوں نبرد آزما رہے تو ریسکیو آپریشن میں تاخیر کیوں ہوئی؟ بیان میں علاقے میں موجود فرنٹیئر کور (ایف سی) کے غیر مؤثر کردار پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ جب ایک ریاستی فورس محاصرے میں تھی تو ایف سی نے بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کیوں نہیں کی؟ یہ بے عملی تحقیقات کا حصہ ہونی چاہیے۔
بیان میں زیارت سانحے کو ہنہ اوڑک کے حالیہ دہشت گرد حملے کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ بی اے مال کے سامنے گزشتہ تین روز سے جاری عوامی دھرنے کے باوجود حکومت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ حکومت دہشت گردی کی روک تھام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور روزمرہ کے نمائشی بیانات سے دہشت گرد عناصر مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔
پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک سانحے کی اعلیٰ سطحی، آزاد اور شفاف عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ ڈپٹی کمشنر زیارت سمیت بروقت کارروائی میں غفلت برتنے والے تمام ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ بیان کے آخر میں شہید پولیس اہلکاروں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بلوچستان میں ریاستی غفلت، نااہلی اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف ہر جمہوری اور سیاسی فورم پر بھرپور آواز بلند کی جاتی رہے گی۔

WhatsApp
Get Alert