زیارت اور ہنہ اوڑک حملوں کی شدید مذمت؛ بروقت مدد نہ ملنے سے اہلکار شہید ہوئے، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا دھرنوں میں شرکت کا اعلان


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین عبدالرؤف لالا کی زیر صدارت پارٹی کی مرکزی و صوبائی کابینہ کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں زیارت کے کچھ مانگی اور کوئٹہ کے ہنہ اوڑک کلی ببری میں ہونے والے دہشت گرد حملوں، شہریوں کے قتل اور اغوا کے واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی کے کارکن اور ذمہ داران دہشت گردی کے خلاف بی اے مال ایئرپورٹ روڈ کوئٹہ، زیارت کراس اور خانوزئی میں جاری احتجاجی دھرنوں میں بھرپور شرکت کرکے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کریں۔ اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی دیگر مرکزی و صوبائی رہنماؤں کے ہمراہ 8 جولائی کو شام 4 بجے بی اے مال ایئرپورٹ روڈ پر منعقد ہونے والے احتجاجی جلسے اور دھرنے میں شرکت کریں گے۔
اجلاس میں پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے زیارت سانحہ سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 6 جولائی کو کچھ مانگی میں تعینات پولیس اہلکاروں نے شام کے وقت اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرکے بتایا تھا کہ ان کے پاس اسلحہ اور گولہ بارود ختم ہو چکا ہے اور فوری مدد نہ پہنچی تو ان کی جانیں خطرے میں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں 9 پولیس اہلکار شہید اور متعدد لاپتہ ہوئے جبکہ 12 اہلکار اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔ عبدالرحیم زیارتوال نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے دوران متعلقہ حکام کو مسلسل اطلاع دی جاتی رہی، تاہم بروقت کارروائی نہیں کی گئی، ایف سی کی چوکی قریب ہونے کے باوجود اہلکاروں کو بروقت مدد فراہم نہیں کی گئی۔
اجلاس کے اعلامیے میں ہنہ اوڑک میں پیش آنے والے حالیہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے قبل کیے گئے سیکیورٹی اقدامات مؤثر ثابت نہیں ہوئے، جس میں متعدد افراد جاں بحق اور کئی اغوا ہوئے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران زیارت، ہنہ اوڑک، سنجاوی، شاہرگ، ہرنائی، دکی اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی، اغوا، بھتہ خوری اور قتل و غارت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بیان میں حکومت کی امن و امان سے متعلق پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تمام جمہوری قوتوں اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ جاری احتجاجی دھرنوں اور جلسوں میں بھرپور شرکت کریں۔

WhatsApp
Get Alert