ممکنہ طور پر ہم آج رات بھی ایرانی اہداف کو نشانہ بنائیں گے، امریکی صدر کا اعلان

انقرہ (قدرت روزنامہ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ہم آج رات بھی ایرانی اہداف کو نشانہ بنائیں گے، ایرانیوں کا رویہ بہت برا ہے کل جہازوں پر ڈرونز اور میزائل فائر کیے، 47 برس سے ایران مشرق وسطیٰ کا غنڈہ بنا ہوا ہے۔ انقرا میں نیٹوسمٹ کی سائیڈ لائن میں یوکرین کے صدرزیلنسکی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوکرین کا مستقبل بہت روشن ہے، پولینڈ میں موجود یوکرینی اپنے ملک واپس جانا چاہتے ہیں، ترکیہ اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے شاندار کام کیا، نیٹو کا اجلاس شاندار رہا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانیوں کا رویہ بہت برا ہے، میں ایرانیوں سے خوش نہیں ہوں، کل انہوں نے جہازوں پر ڈرونز اور میزائل فائر کیے، ممکنہ طور پر آج رات بھی ایرانی اہداف کو نشانہ بنائیں گے، 47 برس سے ایران مشرق وسطیٰ کا غنڈہ بنا ہوا ہے۔
مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران، نیٹو اور اسپین کے حوالے سے اہم بیانات جاری کیے، ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ روز ایران نے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے جہازوں پر حملے کیے، ہم نے گزشتہ رات ایران کے انتہائی خطرناک لوگوں پر بہت طاقتور حملے کیے ہیں، وہ بیمار ذہنیت لوگ ہیں، ان کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے، ہم نے ایران کے معاملے میں بہت زیادہ وقت ضائع کر دیا، میرا خیال ہے اب ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت ختم ہو چکی ہے، اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ انقرہ میں نیٹو چیف کے ساتھ تعمیری مذاکرات ہوئے ہیں، جس میں ایران کو نیوکلیئر ہتھیاروں سے پاک کرنے پر بات کی گئی ہے، ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، نیٹو امریکہ کا مشکل ترین پارٹنر ہے، میں نیٹو سے خوش نہیں ہوں کیونکہ نیٹو نے ایران کے خلاف ہماری مدد نہیں کی۔
BREAKING: Trump on the MoU: 'I think it's over'
🔴 LIVE updates: https://t.co/tHGn06lADN pic.twitter.com/YyHXSc5VzT
— Al Jazeera Breaking News (@AJENews) July 8, 2026
اس موقع پر امریکی صدر نے اسپین کو نیٹو کا ایک خوفناک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ “انہوں نے اپنے وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو اسپین کے ساتھ تمام تجارت بند کرنے کا حکم دے دیا ہے”، ٹرمپ کے اسپین سے متعلق اس بیان کے پیچھے کارفرما عوامل کچھ یہ ہیں کہ مارچ میں اسپین نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف آپریشنز کے لیے اس کی سرزمین پر موجود مشترکہ فوجی اڈے استعمال نہیں کرے گا، اور اس کے ساتھ ہی اسپین نے جنگ میں شامل امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بھی بند کر دی تھی۔
