متنازعہ ٹوئٹس کا معاملہ، یوٹیوبر رضی طاہر کی بعد ازگرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) وفاقی دارالحکومت کی مقامی عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے سابق اعلیٰ شخصیت کی مبینہ ملاقات سے متعلق متنازع ٹویٹس کے مقدمے میں گرفتار یوٹیوبر رضی طاہر کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔
اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے درخواست پر سماعت کی۔ اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔
سماعت کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کی ضمانت مسترد کی جائے کیونکہ کیس کی تفتیش ابھی جاری ہے۔
دوران سماعت ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ این سی سی آئی اے کے پاس رضی طاہر کا موبائل فون اور متعلقہ اکاؤنٹس موجود ہیں جبکہ ملزم سے تفتیش بھی مکمل کی جا چکی ہے۔ اس لیے مزید حراست میں رکھنے کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا۔
وکیل صفائی نے اپنے دلائل کے حق میں اعلیٰ عدلیہ کے مختلف فیصلوں کا بھی حوالہ دیا۔
اس موقع پر پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے قبضے سے حاصل کیے گئے موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کی فرانزک رپورٹ ابھی موصول ہونا باقی ہے، جو تفتیش کے لیے اہم شواہد فراہم کر سکتی ہے، لہٰذا اس مرحلے پر ضمانت دینا مناسب نہیں ہو گا۔
