خیبرپختونخواہ حکومت کا اراکینِ اسمبلی کی مراعات کے بل پر نظرثانی کا اعلان


پشاور (قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمنٹیرینز کی مراعات بل پر میڈیا اور عوام میں ہونے والی تنقید کا نوٹس لے لیا، انہوں نے بل پر نظرثانی کرنے اور عوامی رائے کو مقدم رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کابینہ سے منظور شدہ پارلیمنٹیرینز پریولیجز بل کا مسودہ جب صوبائی اسمبلی بھجوایا گیا تو وہاں اس میں بعض ترامیم کی گئیں، ان ترامیم پر گزشتہ دو سے تین روز سے میڈیا میں مسلسل تنقید ہو رہی ہے، بل کے جن نکات پر خیبرپختونخواہ کے عوام کو اعتراض ہے، ان کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور جن نکات پر صحافی برادری کو اعتراضات ہیں، ان پر بھی لازمی نظرثانی کی جائے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ میں نے اسپیکر اسمبلی کو تمام پارلیمانی لیڈرز سے عوام اور صحافی برادری کے تحفظات پر نظرثانی کرنے کا کہہ دیا ہے، امید ہے بل میں کی گئی ان ترامیم پر دوبارہ نظرثانی ہوگی، عمران خان نے ہمیشہ آزادیٔ اظہارِ رائے کو فروغ دیا ہے، عمران خان خود چاہتے تھے صحافی جہاں ضروری سمجھیں، کھل کر تنقید کریں، چاہے وہ مجھ پر ہو یا حکومت پر ہو۔
انہوں نے کہا کہ مجھ پر اور حکومت پر مختلف صحافی مسلسل تنقید کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ مختلف کالے چینلز مسلسل حکومت کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں، لیکن خیبرپختونخواہ حکومت نے کبھی کسی کے خلاف غیرقانونی کارروائی نہیں کی، بلکہ اگر کوئی جھوٹا پروپیگنڈا بھی کرے تو کارروائی صرف اور صرف عدالتوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے دیگر صوبوں کی صورتحال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دیگر صوبوں میں مخالف صحافیوں کو غائب کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور ہراسانی کے ہتھکنڈے اپنائے جاتے ہیں، لیکن خیبرپختونخواہ میں اس نوعیت کا کوئی کالا ہتھکنڈہ نہیں اپنایا جاتا، خیبرپختونخواہ عوامی مینڈیٹ سے قائم ہونے والی ملک کی واحد حقیقی اسمبلی ہے، اس لیے عوامی رائے اور عوامی مفاد کو ہر فیصلے میں مقدم رکھا جائے گا، آئندہ تمام تر حکومتی اقدامات عوامی مفاد اور عوامی رائے کے مطابق ہی کیے جائیں گے۔

WhatsApp
Get Alert