نبی کریم ﷺ کی بشارت اور حضرت عثمانؓ کا عظیم کارنامہ، بئرِ رومہ کی ایمان افروز داستان

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)بئرِ رومہ مدینہ منورہ کا ایک تاریخی اور انتہائی بابرکت کنواں ہے، جسے بئرِ عثمان بھی کہا جاتا ہے۔
جب نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے، تو وہاں پینے کے میٹھے پانی کی شدید قلت تھی۔ مدینہ میں “بئرِ رومہ” واحد ایسا کنواں تھا جس کا پانی نہایت شیریں، ٹھنڈا اور لذیذ تھا۔ یہ کنواں ایک یہودی کی ملکیت تھا، جو مسلمانوں کو مہنگے داموں پانی فروخت کرتا تھا۔
مسجدِ نبوی میں حضور اکرم ﷺ نے اعلان فرمایا:”کون ہے جو بئرِ رومہ کو خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے؟ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں اس سے بہتر چشمہ عطا فرمائے گا۔”
حضور ﷺ کی زبانِ مبارک سے یہ بشارت سنتے ہی خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس کے مالک کے پاس گئے۔ مالک پورا کنواں بیچنے پر راضی نہ ہوا، تو حضرت عثمانؓ نے بارہ ہزار درہم (بعض روایات کے مطابق ساڑھے تین ہزار دینار) میں آدھا کنواں خرید لیا۔
معاہدہ یہ ہوا کہ ایک دن پانی پر حضرت عثمانؓ کا حق ہوگا اور ایک دن مالک کا،حضرت عثمانؓ نے اپنے دن مسلمانوں کو اجازت دی کہ وہ جتنا چاہیں پانی مفت بھر لیں۔ چنانچہ مسلمان پانی مفت ذخیرہ کر لیتے اور دوسرے دن کوئی بھی اس مالک سے پانی خریدنے نہیں جاتا تھا۔
جب مالک نے دیکھا کہ اس کا کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے، تو اس نے مجبور ہو کر باقی آدھا کنواں بھی حضرت عثمانؓ کو فروخت کر دیا۔ اس طرح کل ملا کر یہ پورا کنواں مسلمانوں کے لیے ہمیشہ کے لیے وقف ہو گیا۔
بئرِ رومہ کی سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ وقف آج 1400 سے زائد سال گزرنے کے بعد بھی فعال ہے۔
اس کنویں کے ارد گرد کھجوروں کا ایک بہت بڑا باغ (حدیقۃ عثمان) وجود میں آیا جو آج بھی سعودی وزارتِ زراعت کی دیکھ بھال میں ہرا بھرا ہے۔
سعودی عرب کے دورِ حکومت میں اس باغ کی کھجوروں کی آمدنی کو سنبھالنے کے لیے حضرت عثمان بن عفانؓ کے نام پر ایک باقاعدہ بینک اکاؤنٹ قائم کیا گیا، اس اکاؤنٹ سے حاصل ہونے والے منافع سے مدینہ منورہ میں زمینیں خریدی گئیں، ہوٹل بنائے گئے اور اس کا آدھا منافع آج بھی غریبوں، بیواؤں اور یتیموں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتا ہے۔
یہ تاریخی کنواں مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی سے تقریباً 5 سے 6 کلومیٹر شمال مغرب کی طرف، وادیِ عقیق کے قریب واقع ہے۔
