عمران خان کے بعد شاہ محمود قریشی کی ضمانت کیس میں اہم پیش رفت

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے بعد پارٹی کے سینئر اور قریبی رہنما شاہ محمود قریشی بھی ایک اور مقدمے میں عدالت پہنچ گئے، تاہم انہیں آج کی سماعت میں ضمانت کی صورت میں کوئی فوری ریلیف نہ مل سکا۔
جناح ہاؤس کے قریب پولیس کی گاڑیاں جلانے سے متعلق مقدمے میں پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت ہوئی۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کیس کی سماعت کی۔
شاہ محمود قریشی کی جانب سے ان کے وکیل رانا مدثر عمر عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی بھی اپنے والد کی درخواست ضمانت کی پیروی کے لیے عدالت پہنچیں۔
سماعت کے دوران اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب پراسیکیوشن کی جانب سے مقدمے کا ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا۔ عدالت نے پراسیکیوشن سے کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے آئندہ کارروائی کے لیے سماعت ملتوی کردی۔
یوں شاہ محمود قریشی کی جانب سے دائر درخواست ضمانت پر آج کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا اور انہیں فوری طور پر ضمانت کا ریلیف بھی نہیں مل سکا۔
یہ مقدمہ 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق ہے اور پولیس گاڑیوں کو جلانے کے الزام کے حوالے سے درج کیا گیا تھا۔ شاہ محمود قریشی اس کیس میں بعد از گرفتاری ضمانت کے خواہاں ہیں۔ اس مقدمے کی گزشتہ سماعت پر بھی عدالت نے پراسیکیوشن کو ریکارڈ پیش کرنے کے لیے مہلت دی تھی اور آئندہ سماعت یکم ستمبر مقرر کی گئی تھی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی نوعیت کے ایک دوسرے 9 مئی مقدمے میں رواں سال جون میں انسداد دہشت گردی عدالت شاہ محمود قریشی کو بری کرچکی ہے۔ مغلپورہ میں پولیس گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں عدالت نے شاہ محمود قریشی کو بری جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو 10،10 سال قید کی سزائیں سنائی تھیں۔
موجودہ مقدمے میں آج کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی جانب سے ریکارڈ پیش نہ کیے جانے کے باعث شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔
عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے متعدد رہنما 9 مئی کے واقعات سے متعلق مختلف مقدمات میں عدالتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی بھی پارٹی کے ان سینئر ترین رہنماؤں میں شامل ہیں جو مختلف مقدمات کے باعث طویل عرصے سے قانونی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
موجودہ سماعت میں بھی عدالت نے درخواست ضمانت کو مسترد نہیں کیا بلکہ مقدمے کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب پراسیکیوشن کی جانب سے ریکارڈ پیش کیے جانے کے بعد عدالت شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست پر مزید کارروائی کرے گی۔
یوں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے بعد پارٹی کے ایک اور مرکزی اور قریبی ساتھی شاہ محمود قریشی کی عدالتی پیشی بھی کسی فوری ریلیف کے بغیر ختم ہوگئی، جبکہ ان کی ضمانت کا فیصلہ اب آئندہ سماعت میں مقدمے کے ریکارڈ کی روشنی میں متوقع ہے۔
