بلوچستان میں نئے صوبے بنانے کی پالیسی مسترد، مسائل کا حل سیاسی، جمہوری اور آئینی بنیادوں پر عوام کے حقوق تسلیم کرنے میں ہے: نیشنل پارٹی

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے 17 نکات وفاق کے لیے ایک جامع سیاسی روڈ میپ ہیں، ساحل و وسائل پر حق حاکمیت دیا جائے


تربت کیچ کو یرغمال بنا کر مخصوص میڈیا نمائندوں کے ذریعے سب ٹھیک دکھانے کی کوشش قابل مذمت ہے: رہنماؤں کا علمدار روڈ جلسے سے خطاب
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ صوبے محض انتظامی اکائیاں نہیں بلکہ یہاں آباد قوموں کی تاریخی سرزمین، ثقافت شناخت اجتماعی جدوجہد اور قربانیوں کی داستان ہیں۔ بلوچستان میں نئے صوبے بنانے کی پالیسی کو نیشنل پارٹی مسترد کرتی ہے۔ بلوچستان کے مسائل کا حل انتظامی تقسیم نہیں بلکہ سیاسی جمہوری اور آئینی بنیادوں پر عوام کے حقوق کو تسلیم کرنے میں ہے۔ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی، مرکزی سینئر نائب صدر میر شاوس حاصل بزنجو مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ، مرکزی ترجمان علی احمد لانگو، رکن بلوچستان اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، مرکزی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر رمضان ہزارہ چیئرمین محراب بلوچ، بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل ابرار برکت بلوچ،صوبائی لیبر سیکرٹری میراحمد بلوچ چیئرمین اسلم بلوچ اور کامریڈ رحمت اللہ پرکانی نے علمدار روڈ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ نظامت کے فرائض ریاض زہری نے سرانجام دئیے۔رہنماؤں نے کہا کہ ہزارہ قوم نے بلوچستان کی سماجی سیاسی تعلیمی تجارتی اور معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور قن کی قربانیوں کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ نیشنل پارٹی سمجھتی ہے کہ بلوچستان میں بسنے والی تمام قومیتیں صوبے کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کی تقسیم یا تفریق کے بجائے باہمی احترام سیاسی برابری اور جمہوری اقدار کو فروغ دینا ضروری ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے 17 نکات کو بلوچستان کے مسائل پر وفاقی حکومت کے لیے ایک جامع سیاسی روڈ میپ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر وفاقی حکومت بلوچستان کے مسائل کو محض امن و امان کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سیاسی، آئینی، معاشی اور انسانی مسئلے کے طور پر دیکھے تو ان 17 نکات پر سنجیدہ پیش رفت بلوچستان اور وفاق کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اپنے ساحل وسائل پر حق حاکمیت،پانی روزگار صحت و تعلیم کی فراہمی اور سیاسی اختیار کے حوالے سے اپنے آئینی و جمہوری حقوق چاہتے ہیں۔صوبے کے وسائل پر اختیار اور ان سے حاصل ہونے والے ثمرات بلوچستان کے عوام تک پہنچانا ضروری ہے۔مقررین نے کہا کہ آج قومی شرائیں غیر محفوظ ہے لیکن حکومت کو ایک طرف سب اچھا دکھائی دیتا ہے تو دوسری طرف مستونگ کھڈکوچہ خالق آباد منگوچر قلات نوشکی سمیت مختلف علاقوں سے عوام کو بے دخل اور باغات کو کاٹنے کی منفی پالیسی کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔عوام نے ان باغات کے لیے برسوں محنت کی اور ان کو کاٹنا عوام کی معاشی قتل عام تصور کی جائیگی۔جس کو مسترد کرتے ہیں قاہدین نے کہا کہ تربت کیچ پانچ دنوں سے یرغمال اور بند ہے۔ مخصوص میڈیا نمائندوں کو لاکر سب ٹھیک دیکھانے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ علمدار روڈ کا یہ جلسہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان کے عوام اپنے بنیادی حقوق، سیاسی آزادی معاشی خوشحالی امن اور ترقی کے لیے متحد ہیں۔ نیشنل پارٹی عوامی جدوجہد کو منظم کرتے ہوئے بلوچستان کے تمام طبقات قومیتوں، نوجوانوں خواتین مزدوروں طلبہ اور دانشوروں کو ایک جمہوری سیاسی پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔جلسے میں علمدار روڈ، ہزارہ ٹاؤن، کچلاک، نواں کلی، کلی عالمو شابو کلی اسماعیل ارباب کرم خان روڈ، عیسی نگری سریاب، جیو، بروری بائی پاس سمیت مستونگ سے آنے والے وفود، سیاسی و سماجی کارکنوں، نوجوانوں اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بی ایس او پجار کے رہنماؤں اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

WhatsApp
Get Alert