پشتونخوا وطن پر مسلط جعلی دہشتگردی اور معاشی قتل عام سے نجات کے لیے سیاسی جمہوری جماعتوں کا مشترکہ جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے: خوشحال خان کاکڑ
ڈیورنڈ لائن کی بندش اور اربوں ڈالر کے معدنی وسائل کے باوجود عوام دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں، یہ صورتحال مزید قابل برداشت نہیں

پشتون قومی اتحاد تشکیل دے کر ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں، کسی کریڈٹ کی تمنا نہیں کارکن کی حیثیت سے صف اول کا کردار ادا کریں گے: چیئرمین پشتونخوانیپ
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پشتونخوا وطن پر مسلط جعلی دہشتگردی، بدامنی، لاقانونیت اور زندگی کے ہر شعبے میں درپیش اذیت ناک صورتحال سے نجات کیلئے سیاسی جمہوری پارٹیوں کے مشترکہ جدوجہد اور تحریک گلوخلاصی کا باعث بن سکتی ہے پشتونخوا نیپ پشتون قومی سیاسی تحریک کیسیاسی جمہوری جماعتوں پر مشتمل پشتون قومی اتحاد کی تشکیل اور اْس کے پلیٹ فارم سے مشترکہ جدوجہد اور تحریک میں ہر قسم کی قربانیاں دینے کیلئے تیارہیں، پشتونخوانیپ سیاسی جمہوری اختلافات کے باوجود ہر سیاسی جمہوری اور وطن دوست جدوجہد اور تحریک کی حمایت کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سمنگلی میں پارٹی کے علاقائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اللہ نورخان، صوبائی سیکرٹری خوشحال خان کاسی، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز نداسنگر، سید اکبر کاکڑ، پروفیسر اسد ترین، عارفہ صدیق، اجمل خان اور نورآغا درانی نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں ہزاروں مندوبین نے شرکت کیں جس میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی جبکہ عبداللہ جان اچکزئی اور ملک آصف خان کاسی کی قیادت میں 11 رْکنی علاقائی ایگزیکٹیو کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے تاریخ ساز اور شاندار کانفرنس کا انعقاد پر پارٹی کے ضلعی اور علاقائی رہنماؤں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں ہر شعبہ زندگی کے افراد کی شرکت جن میں بزرگ، جوان اور خواتین سب شامل ہے اس بات کا ثبوت ہے کہ پشتونخوانیپ کو ہر طبقہ فکر اور ہر عمر کے عوام کی تائید حاصل ہے اور ہمارے پشتون قوم کی قومی نجات کیلئے ایسے ہی نمائندہ منظم پارٹی کی ضرورت ہے جو ہر وقت سرگرم رہ کر قومی اہداف کے حصول کیلئے جدوجہد جاری رکھے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں پشتونخوا وطن کے تمام عوام پر جعلی دہشتگردی، بدترین بے روزگاری اور معاشی قتل عام مسلط کی گئی ہے چمن سے لیکر باجوڑ تک ڈیورنڈ لائن کے کاروبار اور تجارت پر غیر قانونی پابندی لگا دی گئی ہے

پشتونخوا وطن کی زراعت کا شعبہ تنزلی کا شکار ہے اور کارخانوں کا وجود نہیں جبکہ پشتونخوا وطن کی مکمل اکثریت غریب عوام کو بدترین غربت، بھوک وافلاس، بے روزگاری اور مہنگائی کا سامنا ہے اربوں ڈالر کے معدنی وسائل کے مالک کی عوام دو وقت کی روٹی کے محتاج ہے اور یہ سنگین صورتحال ہماری قسمت نہیں بلکہ پشتونخوا وطن، قومی وحدت، قومی واک وا ختیار سے محرومی اور سیاسی، معاشی، ثقافتی غلامی نے پشتون ملت کو درپدری اور تنزلی کے آخری حد تک پہنچا دیا ہے جو مزید قابل برداشت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوانیپ نے روز اول سے پشتونخوا وطن کے سیاسی، جمہوری اور مذہبی پارٹیوں سمیت ہر مکتبہ فکر سے رابطے جاری رکھ کر یہ کوششیں جاری رکھی ہیں کہ پشتونخوا وطن کی قومی سیاسی تحریک سے وابستہ پارٹیاں، تنظیمیں اور ہر مکتبہ فکر کے عوام کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے پشتون قومی محاذ تشکیل دیں اور اس محاذ کے پلیٹ فارم سے پشتون ملت کو ہرشعبہ زندگی میں درپیش سنگین صورتحال سے نجات کیلئے جدوجہد کرتے ہوئے تسلسل کے ساتھ تحریک چلائیں۔ پشتونخوانیپ ایسی مشترکہ جدوجہد اور تحریک میں ہر قسم کی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہے اور کسی قسم کی کریڈیٹ اور قیادت کی تمنا نہیں رکھتے بلکہ کارکنوں کی حیثیت سے مشترکہ تحریک میں صف اول کا کردار ادا کرے گی۔
