جو خود سیاسی جماعتوں میں ڈکٹیٹر بن کر بیٹھے ہیں، وہ فوجی ڈکٹیٹرشپ کا خاتمہ نہیں کرسکتے

یہ جانتے ہیں کہ اگر پارٹی انٹرنل الیکشن کا کوئی نظام آ گیا تو ان کا اپنا عہدہ خطرے میں پڑ جائےگا، کوئی نہاد لیڈر عوام کو طاقتور نہیں دیکھنا چاہتا۔ اقرار الحسن


اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 04 ستمبر 2026ء ) عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کا کہنا ہے کہ جو خود سیاسی جماعتوں میں ڈکٹیٹر بن کر بیٹھے ہیں، وہ فوجی ڈکٹیٹرشپ کا خاتمہ نہیں کرسکتے، یہ جانتے ہیں کہ اگر پارٹی انٹرنل الیکشن کا کوئی نظام آ گیا تو ان کا اپنا عہدہ خطرے میں پڑ جائےگا۔ ایکس پر اپنے ویڈیو بیان میں اقرار الحسن کا کہنا ہے کہ آپ سب سمجھدار ہیں، سب صاحبِ عقل ہیں۔
لیکن آپ میں سے کوئی بھی مجھے اس سوال کا جواب دے سکتا ہے کہ جن سیاسی جماعتوں کے اپنے اندر جمہوریت نہیں، وہ ملک میں جمہوریت کیسے لا سکتی ہیں؟ جن جماعتوں کے لیڈر اپنی پارٹی کے آئین پر عمل نہیں کرتے، وہ ملک میں آئین کی بالادستی کی بات کس منہ سے کرتے ہیں؟ جن کی اپنی پارٹیوں میں میرٹ نہیں، وہ پاکستان میں میرٹ کیسے لے کر آئیں گے؟
​آپ 78 سال سے جن لوگوں کے ہاتھوں بیوقوف بن رہے ہیں، اگر آپ کے لیڈر جمہوریت پر یقین رکھتے ہوتے تو سب سے پہلے اپنی پارٹیوں میں جمہوریت لاتے، جو خود اپنی سیاسی جماعتوں میں ڈکٹیٹر بن کر بیٹھے ہیں، وہ کبھی ملک میں فوجی ڈکٹیٹرشپ کا خاتمہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی کرنا چاہتے ہیں۔
اپنی اپنی باریوں میں یہ سیاسی ڈکٹیٹر فوجی طاقت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں تاکہ مخالفین کو کرش کر سکیں۔​جنہیں اپنی سیاسی جماعتوں میں کوئی مخالف رائے سننے کی عادت نہیں ہے، وہ بھلا حکومت میں آ کر مخالفت کرنے والوں کا وجود کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟ ان میں سے کوئی بھی مڈل کلاس کے قابل لوگوں کو آگے نہیں لانا چاہتا۔

یہ صرف اپنے وفاداروں اور خوشامدیوں کو آگے لاتے ہیں۔ یہ سارے لیڈر قابل لوگوں سے خوف کھاتے ہیں، کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ اگر میرٹ اور انٹرنل الیکشن کا کوئی نظام آ گیا، اور اس کے ذریعے قابلیت کی بنیاد پر مڈل کلاس نوجوان یا عام لوگ آگے آنے لگے، تو ایک دن ان کی اپنی سیٹ، ان کا اپنا عہدہ خطرے میں پڑ جائے گا۔
​اپنی تمام تر ناکامیوں، اپنی تمام تر غلطیوں کے باوجود یہ جب تک زندہ ہیں، کرسی سے چپکے رہنا چاہتے ہیں۔ ان امیر زادوں میں سے کوئی بھی آپ کو آگے نہیں لانا چاہتا۔ یہ سب چاہتے ہیں کہ آپ صرف ان کے جلسے بھریں، ان کے نعرے لگائیں، ان کی گاڑیوں کے پیچھے بھاگیں، ان کے لیے سوشل میڈیا پہ دوسروں کو گالیاں دیں، اور ان کی خوشامد کریں۔
​ان نام نہاد لیڈروں میں سے کوئی بھی آپ کو طاقتور نہیں دیکھنا چاہتا، کیونکہ آپ طاقتور ہوئے تو یہ کمزور ہو جائیں گے۔
ان نام نہاد قائدین میں سے کوئی بھی آپ کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتا، کیونکہ آپ کامیاب ہوئے تو یہ ناکام ہوں گے۔ ان سو کالڈ رہنماؤں میں سے کوئی بھی آپ کو برسرِ اقتدار نہیں دیکھنا چاہتا، کیونکہ آپ مسندِ اقتدار پر آئے تو ان کی اپنی کرسی جائے گی۔ ​یاد رکھیں، ملک میں جمہوریت لانی ہے تو پہلے ایک ایسی جماعت بنائیں جس کے اپنے اندر جمہوریت ہو۔
مڈل کلاس کے مسائل کو حل کرنا ہے تو ایسی جماعت بنائیں جس کی مالک خود مڈل کلاس ہو۔ عوام کی تکلیفیں دور کرنی ہیں تو عوام کا راج لگانے کی کوشش کریں۔ ​میں آپ سب کو ‘عوام راج تحریک’ میں شمولیت کی دعوت دیتا ہوں جہاں میرے پاس کوئی عہدہ، کوئی منصب، کوئی اختیار نہیں ہوگا اور انشاءاللہ اس ملک کے مزدوروں، کسانوں، ریڑھی بانوں، کاریگروں اور استادوں کی اولادیں آگے آئیں گی۔ اس ملک کے عام لوگ برسرِ اقتدار ہوں گے اور اس ملک میں انشاءاللہ عوام راج ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert