نئے صوبوں کے حوالے سے قومی اسمبلی میں بحث ہونی چاہیئے، بلاول بھٹو زرداری
محسن نقوی کو اپنی رائے دینے کا پورا حق حاصل ہے لیکن وہ پارلیمان میں کم آتے ہیں، انہیں چاہیے وہ کاروباری فورمز یا غیر رسمی پلیٹ فارمز کی بجائے قومی اسمبلی میں آ کر اپنا مؤقف پیش کریں؛ چیئرمین پیپلزپارٹی کی میڈیا ٹاک

لندن(قدرت روزنامہ)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ صوبوں کی تشکیل اور انتظامی نظام جیسے حساس معاملات پر فیصلوں کا حق کسی بزنس فورم یا چند کاروباری افراد کے بجائے صرف اور صرف قومی اسمبلی کو حاصل ہے۔ لندن میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی کو اپنی رائے دینے کا پورا حق حاصل ہے لیکن وہ پارلیمان میں کم آتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ کاروباری فورمز یا غیر رسمی پلیٹ فارمز کے بجائے قومی اسمبلی میں آ کر اپنا موقف پیش کریں اور وہاں اس اہم معاملے پر کھلی بحث کا حصہ بنیں اور وہاں نئے صوبوں پربحث ہونی چاہیئے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ یہ بات کسی طور قابلِ قبول نہیں کہ ملک کی قسمت کے اہم ترین فیصلے چند تاجر اور کاروباری شخصیات کریں، تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ان قومی موضوعات پر پارلیمان میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں، اگر موجودہ انتظامی نظام ناکام ہوا ہے تو اس کی اصل وجوہات کیا ہیں اور اس کا ممکنہ حل کیا ہو سکتا ہے؟ ان تمام نکات پر ایوان میں شفاف اور تفصیلی بحث ہونی چاہیئے۔
آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار وہاں ہونے والے حالیہ انتخابات پر اپنے تحفظات ظاہر کیے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستقبل کے تمام انتخابات کو صاف، شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے پارلیمان کی ایک باضابطہ کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ انتخابی اصلاحات کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کے حقیقی ووٹ کی نمائندگی قائم ہو سکے۔
