میں بہت کنفیوز ہوں بھائی! سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میں کس کا غدار ہوں؟ عمران اسماعیل

کراچی / اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے والے رہنماؤں کی موجوہ سیاسی الجھن کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اور ان کے تمام ساتھی اس بات پر پریشان ہیں کہ وہ آخر کس کے غدار ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں عمران اسماعیل نے اپنی اور پارٹی چھوڑنے والے دیگر دوستوں کی سیاسی صورتحال کو اجاگر کیا، انہوں نے لکھا کہ میں بہت کنفیوز ہوں بھائی، میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میں کس کا غدار ہوں! یہی حال ان تمام دوستوں کا ہے جن سے پی ٹی آئی چھڑوائی گئی تھی اور وہ بھی اس الجھن کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
میں بہت کنفیوز ہوں بھائی، میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میں کس کا غدار ہوں بلکہ وو تمام دوست جن سے PTI چھڑائی گئی ہے وہ بھی اس الجھن کے ہی شکار نظر آتے ہے-
مسئلہ دراصل یہ ہے کہ PTI والے ہم کو غدار اس لئے سمجھتے ہیں کہ ان کے خیال میں ہم اسٹیبلشمنٹ سے ملے ہوے اور اسٹیبلشمنٹ والوں کا…— Imran Ismail (@ImranIsmailPTI) September 9, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان اور حمایت یافتہ لوگ ہمیں اس لیے غدار سمجھتے ہیں کہ ان کے خیال میں ہم اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل چکے ہیں، دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ والوں کا ماننا ہے کہ ہم اصل میں پی ٹی آئی ہی کے ہمدرد ہیں جو بار بار کوٹ لکھپت جیل کے چکر لگاتے ہیں اور عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں کے لیے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کرتے ہیں۔
سابق گورنر نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گہرا طنز کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی میں ہر بات پر اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن ایک بات پر دونوں فریقین میں مکمل اتفاق ہے کہ آگے جو کچھ بھی ہو جائے، پی ٹی آئی میں کوئی قابلِ ذکر لیڈرشپ باقی نہیں رہنی چاہیے، بہت بڑی الجھن میں ہوں، کوئی تو بتائے کہ میں اب اس سیاسی موٹر سائیکل پر ایسے بیٹھوں یا ویسے بیٹھوں!۔
