ایم ڈی کیٹ میں پہلی بار بڑی شکایت سامنے نہیں آئی، صرف 6 امیدوار عدالت گئے، مصطفیٰ کمال

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ایم ڈی کیٹ کے امتحانات کے نظام میں تبدیلی کے بعد پہلی مرتبہ کوئی بڑی شکایت سامنے نہیں آئی، جبکہ ماضی میں سینکڑوں امیدوار عدالتوں سے رجوع کرتے تھے، اس سال صرف 6 امیدوار عدالت گئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ کے تمام طلبہ کی رجسٹریشن کے بعد صوبوں کی جانب سے نامزد کیے گئے امتحانی مراکز کو حتمی شکل دی گئی، جبکہ ریاض والا سینٹر بھی فائنل کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد سوالیہ بینک تیار کیا گیا اور یکساں نوعیت کے سوالات تمام صوبوں کو فراہم کیے گئے۔ صوبوں کو متعدد پیپرز میں سے کسی ایک پیپر کا انتخاب کرکے اسے امتحان کے لیے حتمی شکل دینے کا اختیار دیا گیا۔

وفاقی وزیر صحت کے مطابق اس طریقہ کار کا مقصد یہ تھا کہ ماضی کی طرح پورے ملک کے لیے ایک ہی پیپر مقرر کرنے کے بجائے کسی ایک مقام پر مسئلہ پیدا ہونے کی صورت میں پورے پاکستان کا امتحان متاثر نہ ہو۔ اب اگر کسی صوبے میں کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو اس کا اثر صرف اسی صوبے تک محدود رہے گا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کسی صوبے کو پہلے سے معلوم نہیں ہوتا کہ دوسرے صوبے کی جانب سے کون سا پیپر منتخب کرکے پرنٹ کیا جا رہا ہے، جس سے امتحانی عمل کو مزید محفوظ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انٹرنیٹ کی سہولت سے متعلق مسائل والے علاقوں کے لیے بھی متبادل انتظام کیا گیا۔ جہاں انٹرنیٹ دستیاب نہیں تھا وہاں رول نمبرز اور دیگر ضروری معلومات کی ہارڈ کاپیاں فراہم کی گئیں تاکہ امیدوار امتحانی عمل سے محروم نہ رہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے طلبہ کے لیے بھی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ آزاد کشمیر میں امتحانی مراکز موجود ہونے کے باوجود ایسے طلبہ کے لیے اسلام آباد میں بھی ایک سینٹر قائم کیا گیا جہاں وہ اپنا شناختی کارڈ اور ایڈمٹ کارڈ ساتھ لاکر ایم ڈی کیٹ کا امتحان دے سکتے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے اور اب امتحانات کے انعقاد کی ذمہ داری صوبوں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام میں کالجز اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے مکمل وضاحت نہیں، اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ ایم ڈی کیٹ کے پورے عمل کا کنٹرول پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے پاس ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے واضح کیا کہ پی ایم ڈی سی کی ذمہ داری امتحانی نظام کی تیاری اور متعلقہ امور تک ہے، جبکہ صوبوں میں امتحانات کا انعقاد صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق صوبے بھی اپنی ذمہ داری بہتر انداز میں ادا کر رہے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert