ملاوٹ شدہ دودھ اور دہی بیچنے والوں کی شامت، بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی صوبہ بھر میں خصوصی مہم ، 2 ہزار لیٹر غیر معیاری دودھ تلف
کوئٹہ اور لورالائی میں 2 یونٹس سیل، 18 مراکز اور سپلائرز کو بھاری جرمانے، 2 ہزار لیٹر غیر معیاری دودھ تلف

دودھ میں پانی اور اسکمڈ ملک کی ملاوٹ عوام کی صحت سے سنگین کھلواڑ ہے، دودھ فروش حفظان صحت کے اصولوں کی پابندی کریں: ڈائریکٹر فخرالدین مری
کوئٹہ (ڈیلی قدرت) صوبائی وزیر و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی ہدایات پر ملاوٹی اور ناقص معیار کے دودھ و دہی کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے صوبے بھر میں خصوصی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ مہم کے تحت کوئٹہ اور لورالائی میں دودھ فروشوں، دکانوں، دودھ بردار گاڑیوں، ملک سپلائرز اور دیگر مشتبہ مقامات کی بڑے پیمانے پر چیکنگ اور دودھ کے معیار کی جانچ کی گئی۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی انسپیکشن ٹیموں نے خصوصی مہم کے پہلے روز کوئٹہ اور لورالائی میں کارروائیاں کرتے ہوئے 2 یونٹس سیل جبکہ 18 مراکز اور ملک سپلائرز کو جرمانے کیے۔ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 59 دودھ بردار گاڑیوں و موٹر سائیکلوں سمیت 7 دودھ کی دکانوں کا معائنہ کیا گیا۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 19,221 لیٹر دودھ جبکہ بڑی مقدار میں دہی کے معیار کی جانچ کی گئی۔ ملاوٹ، ناقص معیار اور انسانی صحت کے لیے مضر پائے جانے والے تقریباً 2,000 لیٹر دودھ اور بڑی مقدار میں دہی کو موقع پر تلف کردیا گیا۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی موبائل لیبارٹری کے ذریعے دودھ کے نمونوں کی موقع پر جانچ کی گئی جس میں دودھ میں پانی اور اسکمڈ ملک کی ملاوٹ کی نشاندہی کی گئی۔ خلاف ورزی ثابت ہونے پر موقع پر ہی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے مشتبہ دودھ کے ڈبے بھی ضبط کیے گئے۔انسپیکشن ٹیموں نے دودھ فروشوں اور ملک سپلائرز کے خلاف کارروائیوں کے دوران حفظانِ صحت کے ناقص انتظامات، غیر مناسب اسٹوریج، آلودہ برتنوں، صفائی کی ابتر صورتحال اور بغیر لائسنس کاروبار سمیت مختلف خلاف ورزیوں کا بھی نوٹس لیا۔خصوصی ملک ٹیسٹنگ مہم سے متعلق ڈائریکٹر آپریشنز بلوچستان فوڈ اتھارٹی ہیڈکوارٹر فخرالدین مری کا کہنا ہے کہ دودھ بنیادی اور روزمرہ استعمال کی اہم غذا ہے اس لیے دودھ کے معیار اور خالص پن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موبائل لیبارٹری کے ذریعے موقع پر دودھ کی جانچ کا عمل مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ ملاوٹ کی فوری نشاندہی کرکے عوام کو غیر معیاری دودھ کی فراہمی روکی جاسکے۔فخرالدین مری نے کہا کہ دودھ میں پانی، اسکمڈ ملک یا دیگر غیر مجاز اجزا کی ملاوٹ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے دودھ فروشوں اور ملک سپلائرز کو مقررہ فوڈ سیفٹی قوانین اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے، سیلنگ اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈائریکٹر آپریشنز نے مزید کہا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں دودھ کے معیار کی نگرانی کے لیے مختلف علاقوں میں باقاعدگی سے چیکنگ جاری رکھیں گی،انہوں نیعوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ملاوٹی ، مشتبہ یا غیر معیاری دودھ کی فروخت کی اطلاع بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو دیں تاکہ صحت دشمن عناصر کے خلاف بروقت کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔
