یہ درست ہےکہ علی امین گنڈا پور اور شیرافضل مروت کے ساتھ میری ملاقات ہوئی، لیکن کسی سازش کا حصہ نہیں ہوں، رانا ثناء اللہ


لاہور (قدرت روزنامہ) وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ علی امین گنڈا پور اور شیرافضل مروت کے ساتھ میری ملاقات ہوئی، لیکن کسی سازش کا حصہ نہیں ہوں۔ انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ علی امین گنڈا پور اور شیرافضل مروت کے ساتھ میری ملاقات ہوئی، ملاقاتیں ان سے تب بھی ہوتی رہی جب وہ وزیراعلیٰ تھے اور بعد میں بھی ہوتی رہی ہیں، لیکن اس قسم کی کسی سازش کا میں حصہ نہیں ہوں۔
میری اس طرح تو ملاقاتیں پی ٹی آئی کے اور لوگوں سے بھی ہوتی رہی ہیں، اب چند دن پہلے میں ایوان میں بیٹھا تھا تو علامہ ناصرعباس آئے انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی اپنے چیمبر میں بیٹھے ہیں ہم نے آپ سے بات کرنی ہے، میں وہاں پر چلا گیا، تو وہاں پر ثناء اللہ مستی خیل، علامہ ناصر ، محمود اچکزئی اور لوگ بھی تھے، وہاں پر ساری باتیں ہوئی، وائلنس کی بات ہوئی، ملاقاتوں کی بات ہوئی۔
اس طرح سیاستدانوں کے درمیان رابطہ تو رہتا ہے۔

شیرافضل مروت نے ہمارے ساتھ مشورہ کرکے پٹیشن دائر نہیں کی، بعد میں ان کے ساتھ میری فون پر بات ہوئی تھی، ان کی سوچ اور رائے ہے۔ لیکن میری ذاتی رائے یہ ہے کہ پٹیشن کے ذریعے شیرافضل مروت جو کچھ سہیل آفریدی کے خلاف چاہتے ہیں وہ ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاﺅس کیا کسی کی ذاتی جائیداد ہے وہ ریاست کا آفس ہے وہاں یہ جانے سے انکاری ہیں، ایک اور جگہ پر ایک ملاقات ہونے کی خبر میرے پاس بھی ہے. رانا ثناءاللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ایک لیڈر نے کہا کہ استخارہ کیا ہے وہاں جانا ٹھیک نہیں، یہ کسی نہ کسی بہانے سے مذاکرات اور معاملہ سلجھانے سے انکاری ہیں یا مجبور ہیں انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی سے ملاقات کی ہے ان کی بڑی قدر ہے مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے رہے ہیں، پی ٹی آئی کی طرف سے ملاقات کرنے والے نام لینے کی اجازت نہیں دیتے، وہ کہتے ہیں کہ اگر ہمارا نام لیں گے تو سوشل میڈیا پر ہماری بے عزتی اور گالم گلوچ کی ہوگی، پی ٹی آئی میں ایسے لوگ موجود ہے جو 27 ستمبر کی ٹینشن نہیں چاہتے.

WhatsApp
Get Alert